جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اکبر ی منڈی کے تاجروں ، مرکزی کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کاشیخوپورہ ،لاہور میں چینی کے سرکاری نرخوں میں تفریق پر تشویش کا اظہار

datetime 21  اپریل‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)اکبر ی منڈی کے تاجروں اور مرکزی کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن نے شیخوپورہ اور لاہور میں چینی کی فروخت کیلئے طے کردہ سرکاری نرخوں میں تفریق پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے رمضان المبارک میں چینی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے ،ایکس مل اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات کے بعد فی کلو قیمت 64.65روپے بنتی ہے لیکن ہمیں 60روپے فی کلو

فروخت کا پابند کر کے مجسٹریٹس کے ذریعے بھاری جرمانے کئے جارہے ہیں ۔ اکبر ی منڈی کے تاجروں اور مرکزی کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں حاجی اسلم، حافظ عارف، طاہر ثقلین بٹ ،شیخ رشیدسمیت دیگر تاجروں نے شرکت کی ۔ مرکزی کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری طاہر ثقلین بٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیخوپورہ میں چینی کی فی کلو قیمت 65روپے جبکہ لاہور کیلئے 60روپے مقرر کی گئی ہے جو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ۔ شوگر ملوں سے خریداری کے بعد صرف ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات سے فی کلو قیمت 64.65روپے بنتی ہے لیکن ہمیں 60روپے فی کلو فروخت کا پابند کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجسٹریٹس صرف چینی پر چالان کر رہے ہیں جس کی وجہ سے تاجروں اور دکانداروں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور اگر حکومت نے رمضان المبارک سے قبل اس کے تدارک کیلئے اقدامات نہ کئے تو چینی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رمضان بازاروں ، یوٹیلٹی سٹورز اور فیئر پرائس شاپس پر اربوں روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے جبکہ عوام کی اکثریت بازاروں اور گلی محلے کی سطح پر دکانوں سے خریداری کرتے ہیں ۔ ہمارا مطالبہ تھاکہ حکومت شوگراورفلور ملوں سمیت دیگر انڈسٹریز کو براہ راست سبسڈی دے جس سے عوام کی بڑی تعداد نے براہ راست مستفید ہونا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…