جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کو بڑا جھٹکا،اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 20 سے 60 روپے تک اضافہ، وفاقی ادارہ شماریات کے تشویشناک انکشافات

datetime 6  اپریل‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) ڈالر کی قدر بڑھتے ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا ہے ، اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 20 سے 60 روپے تک اضافہ ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوگیاہے ۔

ڈالر اور پیٹرول کیا بڑھا، اشیائے خورونوش کو پر لگ گئے، دکانوں پر دال ماش 35 روپے فی کلو، دال مونگ اور دال چنا 20 روپے فی کلو تک مہنگی ہوگئی، چاول کی قیمت میں 30 سے 60 روپے فی کلو تک اضافہ ہوگیا، تیل اور گھی کی قیمتوں میں بھی 7 روپے تک اضافہ، پیکنگ اور ڈبے والے دودھ کی قیمت میں 10 روپے تک اضافہ ہوگیا۔دوسری جانب پاکستان شماریات بیورو نے یکم اپریل کو سبزیوں، دالوں اور گوشت کے نرخوں سے متعلق رپورٹ میں بتایا کہ سالانہ کی بنیاد پر سبز مرچیں151 فیصد، ٹماٹر 315 فیصد اور سرخ مرچیں27.6 فیصد مہنگی ہوئیں جبکہ دال کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران 22.7 اور گوشت کی قیمتیں 13.8 فیصد بڑھیں۔ماہانہ کی بنیاد پر پیاز 39.2 فیصد، کینو 22.3 فیصد، ٹماٹر کی قیمت میں ایک ماہ میں 18.8 فیصد، کیلا 15 فیصد جبکہ دال مونگ کی قیمت ایک ماہ کے دوران 12.6 فیصد اور لہسن 11 فیصد مہنگا ہوا۔پاکستان شماریات بیورو کے مطابق کتابوں کی قیمتیں 31.3 اور ٹیوشن فیس میں 27.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سیمنٹ کی قیمتیں ایک سال کے دوران 13.9 فیصد بڑھ گئیں۔ ڈالر کی قدر بڑھتے ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا ہے ، اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں 20 سے 60 روپے تک اضافہ ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوگیاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…