جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

عالمی پیداواری تسلسل کا حصہ بننا پاکستان کیلئے ناگزیر ہے : شاہ محمود قریشی

datetime 28  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)  وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ اقتصادی سفارتکاری وقت کی اہم ضرورت ہے اور پاکستان کو عالمی پیداواری سلسلے کا حصہ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔   رپورٹ کے مطابق اقتصادی سفارتکاری کے موضوع پر منعقدہ سفیروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ دنیا میں صرف وہ معیشتیں ہی کامیاب ہیں۔

جنہوں نے جدت، بہتر خیالات علم، مہارت اور بہتر ذرائع استعمال کرتے ہوئے کم مالیت کی بہترین مصنوعات تیار کیں اور منڈیوں پر چھا گئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ قومی ترقی کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے اگر پاکستان کو پائیدار بنیادوں پر استوار ہونا ہے، اگر پاکستان کو ہمیشہ کے لیے کشکول توڑنا ہے اور اگر ہم عالمی مالیاتی سلسلے کا لازمی حصہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سفارتی مشینری کو بہتر بنانا اور علاقائی و عالمی روابط کو فروغ دینا ہوگا۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے اقتصادی بحالی، اور ترقی کو اپنے اصلاحاتی ایجنڈے میں سب سے زیادہ فوقیت دی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی و اقتصادی سفارتکاری ہمارے منشور کا حصہ ہے جس میں برآمدات کو بڑھانا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور غربت کا خاتمہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری 100 روزہ کارکردگی ہماری ترجیحات کی طرف اشارہ کرتی ہے ، ان 100 ایام میں ہم اپنے اہم اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے اور ادائیگیوں کے توازن میں پیش آنے والی شدیدمشکلات کو بہتر بنانے کے قابل ہوئے۔ لیکن بحران سے پریشان ہونا نہ اچھا تھا نہ ہوگا، ہمیں اسے مزید بہتر کرنا ہے کیونکہ پاکستانی عوام کی توقعات ہم سے وابستہ ہیں جبکہ پاکستان کی بے پناہ صلاحیتیں، تقلب پذیری اور وسائل بھی ہم سے یہ تقاضا کرتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری اور تجارت اقتصادی سفارت کاری کے ایجنڈے کا بنیادی جز ہے، اور اس سلسلے میں بیرونِ ملک جانے والے مزدوروں کے لیے نوکریوں کے مواقع بڑھانے اور ترقیاتی مد میں وصول ہونے والی امداد کا احتیاط سے استعمال بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ملکی ترقی سے مایوسی کے رویے کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے تفصیل سے پاکستان میں دستیاب بے پناہ صلاحیتوں کے بارے میں گفتگو کی اور گولڈمین سیچس کی جانب سے

پاکستان کو ان گیارہ معیشتوں میں شامل کرنا جو رواں صدی کو عروج کی صدی بنائیں گی، کا بھی ذکر کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سیاحت میں اہم مقام حاصل کرے گا، جبکہ ایکسچینج ریٹ کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد ہماری برآمدات کی رفتار میں بھی اضافہ ہورہا ہے جو

17-2016 میں 20 ارب 45 کروڑ ڈالر تھی اور 18-2017 میں 14 فیصد اضافے کے بعد 23 ارب 33 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ رواں برس پاکستان کی ملکی مجموعی پیداوار 36 سے 38 ہزار ارب سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…