جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

بینک نے ہیکنگ حملے کا معاملہ چھپانے کی کوشش کی : ایف آئی اے

datetime 24  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) گزشتہ ماہ سامنے آنے والے آن لائن بینکنگ فراڈ کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسران نے دعویٰ کیا ہے کہ متعلقہ بینک نے معاملہ چھپانے کی کوشش کی جس سے بینکنگ سیکٹر کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کمزور ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایک سینئر عہدیدار نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا

کہ 44 ممالک میں موجود ہیکرز نے ’ویزا‘ کے ذریعے رقم کی منتقلی کے طریقہ کار کو نشانہ بنایا جس کے بعد بینک اور بین الاقوامی طور پر رقوم کا تبادلہ کرنے والی کمپنی نے ایک انٹرنیشنل فرانزک آڈٹ ماہر کی خدمات حاصل کی تا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک بین الاقوامی ماہر کی رپورٹ کا انتظار ہے جس سے بینکنگ سیکٹر اور ایف آئی اے کو مدد ملے گی کہ مستقبل میں اس طرح کے ہونے والے حملوں کو کس طرح روکا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی اے بھی مذکورہ معاملے کی تحقیقات کررہی ہے اور اس کے لیے ان 44 ممالک سے مدد بھی طلب کی گئی ہے جہاں سے ہیکرز کا تعلق ہے۔ ایک طرف پاکستان کا ان ممالک کے ساتھ ثبوتوں کے تبادلے یا مشترکہ تحقیقات کا معاہدہ موجود نہیں دوسری جانب ایف آئی اے کے تفتیش کاروں کو بینکنگ سیکٹر سے بھی عدم تعاون کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق کچھ حیرت انگیز معاملات سامنے آئے ہیں جن میں ایک ہی دن میں 5 لاکھ روپے کی خطیر رقم نکلوانا بھی شامل ہے جس کے بارے میں بینکنگ حکام نے جواب دینے سے گزیز کیا کہ اتنی بڑی رقم نکلوانے پر اے ٹی ایم نے انکار کیوں نہیں کیا۔ بینک اپنے سائبر سیکیورٹی نظام کو بہتر بنائیں، ایف آئی اے ایف آئی اے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہماری تفتیش اس بات پر مرکوز نہیں کہ رقم کے مالکان کو ان کی رقم واپس ملے بلکہ ہماری کوشش ہے کہ مستقبل میں اس جرم کو دوبارہ ہونے سے روکا جائے۔ اس ضمن میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک نے بتایا کہ 2 نئے قسم کے فراڈ کے طریقہ کار’پیشنگ ‘ اور ’ویشنگ‘ سامنے آئے ہیں، پیشنگ میں دھوکہ دہندگان ای میل بھیج کے ذاتی معلومات دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، اور ای میل متعلقہ بینک کی جانب سے بھیجی گئی معلوم ہوتی ہے۔ دوسری جانب ’ویشنگ‘ میں دھوکہ دہندگان کسی

شخص کو کال کرتے ہیں اور اپنے آپ کو بینک کا نمائندہ یا سرکاری افسر ظاہر کر کے اس سے معلومات کی تصدیق کرنے کا کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں بینک نے اکاؤنٹ رکھنے والے افراد کو خبردار کیا کہ وہ کسی بھی دیے گئے لنک سے اپنی آئی ڈی میں لاگن نہیں ہوں اور یہ بات ذہن میں رہے کہ بینک کبھی آپ سے آپ کی آئی ڈی یا پاسورڈ نہیں پوچھتا۔ اس سلسلے میں سینیٹ اجلاس میں بتایا گیا کہ بینک اکاؤنٹس سے رقم نکالنے کے معاملے میں

اکاؤنٹ ہولڈرز کو نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا کیوں کہ یہ ضمانت دہندہ کی ذمہ داری ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ صرف ایک بینک کے علاوہ دیگر بینکس کا ڈیٹا محفوظ ہے اور ان کا ڈیٹا ہیک نہیں ہوا۔ سینیٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں بینکنگ کے شعبے کی حفاظت کی غرض سے ایک منصوبہ ترتیب دیا ہے تا کہ کسی قسم کے سائبر حملے کی روک تھام کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…