جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف کا حکومت سے ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ

datetime 17  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے بیل آؤٹ پیکج میں حکومت سے ٹیکس آمدن کو بڑھانے سے متعلق مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت سے رواں مالی سال کے دوران ایک سو 60 ارب روپے کے

نئے ٹیکسز کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مالیاتی فریم ورک کو مستحکم کیا جاسکے۔ ادھر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تخمینہ لگایا کہ اگر ٹیکس سے جی ڈی پی کی شرح میں 1.1 فیصد اضافے کے اقدامات بھی اٹھائے جائیں تو ٹیکس کی مد میں 4 سو سے 5 سو ارب روپے آمدن بڑھے گی۔ رپورٹ کے مطابق اگر یہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو پاکستان کا جون 2021 تک ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 13.9 فیصد تک ہوجائے گا۔ پاکستان نے 19-2018 کے اختتام تک مالی خسارہ 5.6 فیصد تک رکھا ہے جبکہ آئی ایم ایف اس سے کچھ کم چاہتا ہے۔ ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام مالی خسارے کے ہدف کے تحت تھے جن میں حکومت کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کس طرح اس ہدف کو مکمل کرتی ہے، جن میں آمدن کو بڑھانے اور اخراجات میں کمی کے اقدامات شامل تھے۔ اس مرتبہ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کو سالانہ کی بنیاد پر اہداف مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ٹیکس سے جی ڈی پی کی شرح کو جون 2019 تک 0.4 فیصد، جون 2020 میں 1.1 فیصد اور جون 2021 تک 1.2 فیصد تک کیا جائے۔ ان اقدامات کے علاوہ آئی ایم ایف کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صوبائی آمدن میں بھی اضافے سے متعلق اقدامات کرے گی اور ٹیکس کی شرح کو 1.1 سے بڑھا کر پروگرام کے اختتام تک 1.5 فیصد تک بڑھانا ہے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل ایف بی آر نے وزارت خزانہ سے درخواست کی تھی کہ پری پیڈ موبائل کارڈز پر عائد ٹیکس کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ موبائل ٹیکس کی مد میں حکومت کو 80 ارب روپے سالانہ کا فائدہ ہوتا ہے جو آئی ایم ایف پروگرام کے پہلے سال میں تقریباً آدھی ٹیکس آمدن کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…