جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

آئی ایم ایف کا حکومت سے ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ

datetime 17  دسمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے بیل آؤٹ پیکج میں حکومت سے ٹیکس آمدن کو بڑھانے سے متعلق مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کردیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت سے رواں مالی سال کے دوران ایک سو 60 ارب روپے کے

نئے ٹیکسز کے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مالیاتی فریم ورک کو مستحکم کیا جاسکے۔ ادھر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تخمینہ لگایا کہ اگر ٹیکس سے جی ڈی پی کی شرح میں 1.1 فیصد اضافے کے اقدامات بھی اٹھائے جائیں تو ٹیکس کی مد میں 4 سو سے 5 سو ارب روپے آمدن بڑھے گی۔ رپورٹ کے مطابق اگر یہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو پاکستان کا جون 2021 تک ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 13.9 فیصد تک ہوجائے گا۔ پاکستان نے 19-2018 کے اختتام تک مالی خسارہ 5.6 فیصد تک رکھا ہے جبکہ آئی ایم ایف اس سے کچھ کم چاہتا ہے۔ ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام مالی خسارے کے ہدف کے تحت تھے جن میں حکومت کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ کس طرح اس ہدف کو مکمل کرتی ہے، جن میں آمدن کو بڑھانے اور اخراجات میں کمی کے اقدامات شامل تھے۔ اس مرتبہ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کو سالانہ کی بنیاد پر اہداف مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ٹیکس سے جی ڈی پی کی شرح کو جون 2019 تک 0.4 فیصد، جون 2020 میں 1.1 فیصد اور جون 2021 تک 1.2 فیصد تک کیا جائے۔ ان اقدامات کے علاوہ آئی ایم ایف کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صوبائی آمدن میں بھی اضافے سے متعلق اقدامات کرے گی اور ٹیکس کی شرح کو 1.1 سے بڑھا کر پروگرام کے اختتام تک 1.5 فیصد تک بڑھانا ہے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل ایف بی آر نے وزارت خزانہ سے درخواست کی تھی کہ پری پیڈ موبائل کارڈز پر عائد ٹیکس کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ موبائل ٹیکس کی مد میں حکومت کو 80 ارب روپے سالانہ کا فائدہ ہوتا ہے جو آئی ایم ایف پروگرام کے پہلے سال میں تقریباً آدھی ٹیکس آمدن کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…