جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

تیل کی پیداوار پر اوپیک ممالک کے مابین معاہدہ ممکن نہیں : خال الفالح

datetime 7  دسمبر‬‮  2018 |

سعودی عرب(مانیٹرنگ ڈیسک ) تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ( اوپیک) سمیت دیگر ممالک کے مابین تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کے لیے پیداوار کے معاملے میں معاہدہ ہونے کا امکان کم ظاہر کیا۔ اس حوالے سے سعودی عرب کے وزیر توانائی اور صنعت خال الفالح نے

اوپیک کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’نہیں، میں پُر امید نہیں ہوں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم تاحال تیل کی تقسیم کے معاملے پر بحث کررہے ہیں‘۔ دوسری جانب عراقی وزیر نے کہا کہ ’سوچ و بچار کا عمل جمعہ تک جاری رہے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پرامید ہیں کہ معاہدہ طے پاجائےگا‘۔ واضح رہے کہ چند روز قبل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوپیک سے کہا تھا کہ تیل کی پیداوار میں کمی کے منصوبے کو ترک کرکے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تنزلی کا گراف قائم رہے۔ حکومت کا قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کیلئے غور اس سےقبل سعودی وزیر نے کہا تھا کہ تیل کی تقیسم میں یومیہ 10 لاکھ بیرل کم کرنے کا فیصلہ مناسب رہے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’اس طریقہ کار کو تمام ممالک یکساں اپنائیں گے، یہ عمل تمام فریقین کے لیے مناسب اور شفاف ہوگا‘۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق اوپیک ممالک نے اکتوبر میں یومیہ 329 لاکھ بیرل تیل نکالتے ہیں۔ واضح رہے کہ 3 دسمبر کو قطر کے وزیر برائے توانائی سعد شریدہ الکعبی نے اعلان کیا تھا کہ قطر جنوری 2019 میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم ( اوپیک) کا حصہ نہیں رہے گا۔ دوحہ میں ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سعد شریدہ الکعبی کا کہنا تھا کہ ’اوپیک سے دستبردار ہونے کے فیصلے کی وجہ یہ ہے کہ قطر آئندہ سالوں میں قدرتی گیس کی پیداوار کو 77 ملین ٹن سالانہ سے 110 ملین ٹن سالانہ بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…