جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی مالیاتی ضروریات کا جائزہ لینے کیلئے (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچ گیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی مالیاتی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان سے مذاکرات کے لیے آئی ایم ایف کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا، حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات

کل سے شروع ہوں گے۔ وفد کے سربراہ ہیرالڈ فنگر ایک روز بعد اسلام آباد پہنچیں گے۔ مذاکرات سے قبل عالمی مالیاتی ادارے کے وفد کو ادائیگیوں کے توازن اور مجموعی ملکی معیشت پر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے دستاویز تیار کرلیے گئے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف سے پروگرام کی دستاویز پیش کریں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف کے قرض کی حد کے مطابق قرض لے گا۔ پاکستان آئی ایم ایف سے 6 سے 7 ارب ڈالر کا قرض لے سکتا ہے۔ مذاکرات کے دوران پاکستان کو قرض واپسی کی حکمت عملی دینی ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قرض کی واپسی کے لیے اصلاحات کا مکمل پلان دینا ہوگا۔ وفد کو گردشی قرضوں اور سبسڈی میں کمی کے اقدامات پر بریفنگ بھی دی جائے گی۔ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں دو ہفتے قیام کرے گا۔ یاد رہے کہ ستمبر کے اواخر میں بھی آئی ایم ایف کے وفد نے پاکستان کا دورے کیا تھا اور کہا تھا کہ نئی حکومت درست سمت میں گامزن ہے، پاکستان کو مالی مسائل کا سدباب کرنے کے لیے کم از کم12 ارب ڈالر کی رقم کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس نیٹ میں اضافے ،اسٹیٹ بینک کی خودمختاری بڑھانے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو مزید مستحکم بنانے کا بھی مشورہ دیتے ہوئے ماضی کی اوور ویلیو کرنسی، کم شرح سود اور نرم مالیاتی پالیسی کو مسائل کی وجہ قرار دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…