بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

ایران سے تیل خریدنے والے ممالک پرمعاشی پابندیاں لگادیں گے،امریکا

datetime 28  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے دنیا کے تمام ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں برس 4 نومبر تک ایران سے تیل خریدنا بند کردیں بصورت دیگر انہیں امریکا کی جانب سے معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوئی رعایت نہیں دیں گے اور واضح کیا کہ ایران کا گھیرا تنگ رکھنا ہماری قومی سلامتی پالیسی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

ایران، سخت ترین پابندیوں کیلئے تیار ہو جائے، امریکا فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو جوہری معاہدے سے دستبردار کردیا تھا اور ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے لگائی گئیں امریکی پابندیاں دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا تھا، اس ضمن میں ایران سے معاشی تعلقات ختم کرنے کے لیے 180 دن کی ڈیڈلائن بھی دی تھی۔ اس لیے اب امریکا کی جانب سے دنیا کے دیگر ممالک پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ امریکی فیصلے پر عملدرآمد کریں، جن میں وہ یورپی ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے امریکا کو معاہدے سے دستبردار ہونے سے روکنے کی سر توڑ کوششیں کیں۔ خیال رہے کہ ایران سے تیل خریدنے والے ممالک میں بھارت جاپان اور چین بھی شامل ہیں۔ امریکا کی ایران پر پابندیاں: پہلے مرحلے میں گاڑیوں اور طیاروں کی صنعت متاثر ہوگی اس ضمن میں یورپی طاقتوں خاص طورسے اپنی کمپنیوں کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھنے کے لیے مذاکرات کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن حکام نے اس بات کی تصدیق کردی کہ ڈونلڈ ٹرمپ 180 دن کی ڈیڈ لائن کو موقف پر قائم ہیں جو 4 نومبر 2018 کو ختم ہورہی ہے۔ اس حوالے سے امریکی عہدیدار نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر صحافیوں کو آگاہ کیا کہ مجھے یہ کہنا مناسب نہیں لگ رہا کہ صفر رعایت دی جائے گی بلکہ ہم کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دیں گے، انہوں اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ یہ فیصلہ غیر مقبول رہے گا۔ اس ضمن میں انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ان کے خیال میں جاپان کا موقف اس اعتبار سے آئل درآمد کرنے والے دیگر ممالک سے مختلف نہیں ہوگا، انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں چین اور بھارت کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکا کی ایران کے خلاف نئی پابندیاں اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ان ممالک کے لیے مشکلات کا باعث ہوگا جو ایران سے تیل خریدتے ہیں، وہ رضاکارانہ طور پر یہ سب کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے، تاہم ہم ان سے ان کی پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ کریں گے۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…