منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کے جاتے ہی پاکستانیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی پھلوں اور سبزیوں کےنرخ کہاں تک جا پہنچے، عوام کی چیخیں نکل گئیں

datetime 1  جون‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی )صوبائی دارلحکومت لاہور میں پرچون سطح پر پھلوں اور سبزیوں کی من مانے نرخوں پر فروخت کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا ،حکومت کے تحلیل ہونے کے بعد دکانداروں کو مزید کھلی چھوٹ مل گئی ۔گرمی کی وجہ سے لیموں کی سب سے زیادہ مانگ ہے تاہم کسی بھی جگہ پر اسکی سرکاری نرخوں پر فروخت نہیں ہو رہی ۔ایک کلولیموں دیسی

کی سرکا ری قیمت 123 روپے مقرر ہے لیکن دکانداروں کی جانب سے 180سے 190روپے تک فروخت کی گئی ۔آلو نیاکچا چھلکا کے سرکاری نرخ21روپے مقرر تھے تاہم اس کی مختلف مقامات پر 28سے 30روپے تک فی کلو فروخت دیکھی گئی ۔ ،پیاز21روپے کی بجائے 25سے30روپے، ٹماٹر16روپے کی بجائے 25روپے،لہسن دیسی74روپے کی بجائے110روپے،لہسن چائنہ 106روپے کی بجائے140 روپے، ادرک تھائی لینڈ 116روپے کی بجائے175روپے، ادرک چائنہ 156روپے کی بجائے220 روپے، بینگن 27روپے کی بجائے32روپے،کھیرا دیسی 27روپے کی بجائے35روپے،کھیرا فارمی 20روپے کی بجائے 25روپے،پالک17روپے کی بجائے 24روپے، ٹینڈے دیسی 47کی بجائے 50روپے، ،پھلیاں58روپے کی بجائے85روپے، پھول گوبھی 51روپے کی بجائے 60 روپے،گھیاکدو 18کی بجائے23روپے، سبز مرچ 58روپے کی بجائے100روپے،شملہ مرچ 30روپے کی بجائے47روپے، بھنڈی35روپے کی بجائے50روپے،مٹر106روپے کی بجائے160روپے میں فروخت کئے گئے ۔ پھلوں میں ایک کلو سیب کالا کولو186روپے کی بجائے250سے260روپے،سیب سفید 96روپے کی بجائے130سے150روپے،کیلا اول درجہ111روپے کی بجائے200روپے،ایک کلو خوبانی سفید 166روپے کی بجائے 200 روپے،آڑو85روپے کی بجائے130روپے،کھجور ایرانی کھلی172روپے کی بجائے 240روپے،کھجور اصیل کھلی 146روپے کی بجائے220روپے،گرما 69روپے فی کلو کی بجائے 74روپے،آم سندھڑی 141روپے کی بجائے 160روپے، آلو بخارا 206روپے کی بجائے330روپے اورایک کلو انگور 141روپے کی بجائے 220روپے تک فروخت کئے گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…