منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سٹیٹ بنک کا ڈسکاؤنٹ ریٹ کی شرح سود میں پچاس پوانٹس اضافہ نئی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے‘پیاف

datetime 1  جون‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسو سی ایشن فرنٹ(پیاف ) نے کہا ہے کہ سٹیٹ بنک کی جانب سے شرح سود میں پچاس بیس پوائنٹ اضافہ نئی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے،یہ اضافہ انڈسٹریل سیکٹر اور معیشت کے لیے حقیقی معنوں میں فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکے گا،شرح سود صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے بنیادی حثییت رکھتا ہے اور اس سے پیداواری لاگت پر

براہ راست اثر پڑھتاہے، ڈسکاؤنٹ ریٹ کی شرح کو پچھلے تین سالوں میں تاریخ کی کم تر ین سطح پر لانا حکومت کی ایک بڑی کامیابی تھی جسے کاروباری برادری بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے،موجودہ حالات میں کاروباری برادری کو سستے قرضوں کی اشد ضرورت ہے، مارک اپ کی شرح میں اضافہ سے معاشی مسائل زیادہ ہونگے اور نہ صرف مقامی سرمایہ کاری کم گی بلکہ غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل ہو گا۔چیئرمین پیاف عرفان اقبال شیخ ،سینئر وائس چیئرمین تنویر احمد صوفی اور وائس چیئرمین خواجہ شاہزیب اکرم نے اپنے بیان میں کہا کہ شرح سود میں اضافے سے بینکوں کے ڈیپازٹ میں تو اضافہ ہو رہا ہے لیکن اسکے باعث صنعتی ترقی میں کمی واقع ہو گی کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے صنعتی ترقی میں کمی واقع ہو گی۔ پاکستان میں بلند شرح سود اور عالمی معاشی حالات میں ابتری کے باعث پاکستانی برآمدات اور درآمدات بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔انہوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ معیشت سے متلقتہ بینکنگ پالیسوں پر نظرثانی کریں اور نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں۔انہوں نے کہا کہ مارک اپ ریٹ میں اضافہ سے معیشت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ معاشی مشکلات بڑھتی رئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بنک کی پچھلی جاری کردہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو کم سے کم سطح پر لانا خوش آنیدہ بات تھی۔ صنعتی شعبے جو بحران کا شکار ہیں شرح سود میں اضافہ اس کی بحالی میں مددگاد ثابت نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…