منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عوام رمضان ریلیف پیکیج سے محروم،یوٹیلیٹی سٹورز سے چینی،تیل ،دالیں کھجور سمیت دیگر اشیاء غائب ،کئی کمپنیوں نے کارپوریشن کو سپلائی معطل کر دی

datetime 20  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لاائن) رمضان ریلیف پیکیج کے تحت حکومت کی جانب سے 1آرب 73کروڑ روپے کی سبسڈی سے عوام محروم رہ گئے، ملک بھر کے سٹوروں سے چینی ،تیل ،دالیں اور کھجور سمیت دیگر اشیاء خوردونوش غائب ہوگئیں ،کروڑوں روپے کے بقایا جات پر بھی کئی کمپنیوں نے بھی کارپوریشن کو سپلائی معطل کر دی ہے ۔وفاقی حکومت کی جانب سے رمضان ریلیف پیکیج کے تحت یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کو دی جانے والی 1آرب 73کروڑ

روپے کی سبسڈی کے باوجود عوام کو کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے وفاقی دارلحکومت سمیت ملک بھر کے سٹوروں سے سبسڈائز اشیاء غائب ہوگئیں ہیں سٹوروں میں چینی ،دالیں ،تیل گھی ،بیسن اور کھجور سمیت کوئی بھی چیز دستیاب نہیں ہے اور جن سٹوروں میں یہ اشیاء پہنچائی جاتی ہیں وہاں سے مقامی دوکاندار سامان تھوک کے حساب سے اٹھا لیتے ہیں جس کیو جہ سے عام صارفین کو سبسڈائز اشیاء دستیاب نہیں ہوتی ہیں اس سلسلے میں جب کارپوریشن کے افسران بالا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایاکہ بعض کمپنیوں کی جانب سے بقایا جات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے سٹوروں کو سامان مہیا نہیں کیا جارہا ہے جن میں دودھ ،گھی اور آٹا سمیت دیگر سامان فراہم کرنے والے وینڈر شامل ہیں انہوں نے بتایاکہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ سٹوروں پر تمام سامان مہیا کریں تاہم سٹوروں کی تعداد زیادہ ہونے کیوجہ کم مقدار میں سامان فراہم کیا جاتا ہے جو پہنچتے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے انہوں نے کہاکہ سٹوروں پر تعینات عملے کو یہ سختی سے ہدایات کی گئی ہیں کہ کسی بھی دکاندار کو بڑی مقدار میں سامان لے جانے کی اجازت نہ دی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…