منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کاروباری طبقہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی موجودگی میں ملکی معیشت میں اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کر پا رہا،پیاف

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف)نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکس جیسے ناقابل قبول قانون کا خاتمہ کیا جائے،ود ہولڈنگ ٹیکس کے مضر اثرات کی بدولت بزنس کمیونٹی پریشانی کا شکار ہے، انکم ٹیکس ،سیلز ٹیکس و دیگر ٹیکسوں کی موجودگی میں اپنی ہی جمع شدہ رقم کے لین دین پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا ،اس ٹیکس کے باعث بینک بھی بحران کا شکار ہیں۔

اس لیے ود ہولڈنگ ٹیکس فوری واپس لیا جائے ، حکومت تاجر برادری کے مسائل کو سمجھے اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے ودہولڈنگ ٹیکس کو ختم کرے۔چیئرمین پیاف عرفان اقبال شیخ ،سینئر وایس چیئرمین تنویر احمد صوفی اور وائس چیئرمین خواجہ شاہزیب اکرم کے ہمراہ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کاروباری طبقہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی موجودگی میں ملکی معیشت میں اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کر پا رہا ۔ تاجربرادری ہمیشہ مشکل وقت میں حکومت کی شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے اور حکومت کا ساتھ دیا ہے لہٰذا حکومت ودہولڈنگ ٹیکس جیسے کالے قانون کو ختم کرے ۔چیئرمین پیاف نے کہا کہ بجٹ میں تاجروں پر کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگنا چاہئے۔ صرف ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرتے ۔ ریفنڈز نہ ملنے اور کئی قسم کے ٹیکسز سے کاروباری طبقہ پہلے ہی پریشان ہیں اور بعض دفعہ کرپشن کا منہ بھی دیکھنا پڑتا ہے۔پیاف عہدیداران نے متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہ صنعت و تجارت کے وسیع تر مفاد میں اور کاروباری طبقہ کو حقیقی معنوں میں ریلیف دینے کے لئے ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…