منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

تجارتی خسارے میں اضافہ حکومت کی معاشی اصلاحات کو کھا رہا ہے اور ملکی ترقی کو پنپنے نہیں دے رہا،پیاف

datetime 19  جنوری‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے کہا ہے کہ تجارتی خسارے میں اضافہ حکومت کی معاشی اصلاحات کو کھا رہا ہے اور ملکی ترقی کو پنپنے نہیں دے رہا، پچھلے دس ماہ میں تجارتی خسارہ پچھلے مالی سال کی نسبت50 فیصد بڑھ چکا ہے جو کہ معاشی ترقی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔

چیئر مین پیاف عرفان اقبال شیخ ، سینئر وائس چیئرمین تنویر احمد صوفی اور وائس چیئرمین  خواجہ شاہزیب اکرم نے اپنے ایک جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا کہ تجارتی خسارہ ملکی برآمدات میں اضافہ سے ہی دور ہوگا۔ملکی برآمدات کے مقابلہ میں درآمدات میں اضافہ سے تجارتی خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔ برآمدات میں کمی کی دیگر وجوہات کے ساتھ مہنگی بجلی اور بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ بھی ہے اس لیے حکومت نئی تجارتی پالیسی میں برآمدات میں اضافہ کے ہدف کی تکمیل کیلئے صنعتی مقاصد کیلئے بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی کا اعلان کرے۔انہوں نے کہا کہ صنعتکار مہنگی بجلی و گیس سے انٹر نیشنل مارکیٹ میں معاہدے کے مطابق مال سپلائی کرنے سے قاصر ہیں یہی وجہ ہے کہ تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔ملکی برآمدات کے فروغ سے ہی تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوںنے کہا کہ بجلی قیمتوں میں کمی کیلئے تھرمل منصوبوں کی بجائے ہائیڈل منصوبوں کی طرف توجہ مرکوز کی جائے کیونکہ پن بجلی سستی ترین بجلی کے حصول کا آسان ذریعہ ہے اس لیے حکومت دیگر منصوبوں کے ساتھ ساتھ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی طرف بھی توجہ مرکوز کریں تاکہ سستی بجلی کا حصول ممکن ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے 6ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 7ارب96کروڑ ڈالر سے تجاوز کرناملکی معاشی صورتحال کیلئے نقصان دہ ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث حکومتی قرضوں میں مزید

اضافہ ہوگا اس لیے برآمدات میں اضافہ کرکے تجارتی خسارہ کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ کیلئے برآمد کنندگان کے رکے ہوئے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی فوری ادائیگی اور صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی لانے کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی لائی جائے تاکہ پاکستانی اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہو اور ملکی برآمدات میں اضافہ سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ سکیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…