جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

روپے کی قدر میں کمی،ورلڈ بینک نے انتباہ کردیا

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) ورلڈ بینک کے مطابق معاشی عدم توازن کے باوجود پاکستان کی معیشت میں نمو کا عمل جاری رہے گا تاہم ادائیگیوں کا بگڑتا ہوا توازن معیشت کیلیے بڑا خطرہ ہے۔ورلڈ بینک نے پاکستان کی معاشی ترقی کے بارے میں ششماہی رپورٹ ’’پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ‘‘ جاری کردی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق معاشی عدم توازن کے باوجود پاکستان کی معیشت میں نمو کا عمل جاری رہے گاتاہم ادائیگیوں کا بگڑتا ہوا توازن معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے،

مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پانے کیلیے موثر معاشی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح نمو مالی سال 2019تک 5.8فیصد تک پہنچ سکتی ہے، ترسیلات کی آمد میں بہتری اور الیکشن کے دوران حکومتی اخراجات سے اشیاء کی طلب میں اضافہ ہوگا، مقامی طلب میں اضافہ اور بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے سال 2018اور 2019 میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوگا اور اس کے 7 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے، سال 2018 میں افراط زر کی شرح 6 فیصد رہے گی۔ ورلڈ بینک کے مطابق توازن ادائیگی پر دباؤ کی صورتحال چند سال برقرار رہے گی۔رپورٹ کے مطابق ریئل ایفکٹیو ایکس چینج ریٹ اور برآمدات میں گہرا تعلق ہے، حقیقی اور موثر ایکس چینج ریٹ پاکستان کو تجارتی خسارہ کم کرنے میں مدد دے گا۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے اگرچہ افراط زر اور قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں قدرے اضافہ ہوگا تاہم روپے کی قدر میں معتدل کمی مجموعی طور پر معاشی نمو کے لیے سود مند ثابت ہوگی۔ورلڈ بینک کے مطابق ٹیکس نیٹ اور ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے زری فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں تاہم اس مقصد کے لیے طویل مدتی اقدامات کے ساتھ قلیل مدتی اقدامات بھی ناگزیر ہیں، اگرچہ وفاق اور صوبوں کی سطح پر ٹیکس اصلاحات کے نتیجے میں

ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو مالی سال 2011کی 9.5فیصد کی سطح سے بڑھ کر مالی سال 2016میں 12.4فیصد کی سطح پر آچکا ہے تاہم اس تسلسل کو جاری رکھنے اور ٹیکس وصولیوں میں پائیدار بنیادوں پر اضافے کے لیے ٹیکس نظام میں دوسرے مرحلے کی اصلاحات ناگزیر ہیں جن میں ٹیکس بیس میں اضافہ، ٹیکس قوانین کے موثر نفاذ اور ٹیکسوں کے نظام اور ادائیگی پر اٹھنے والی لاگت میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں، ان مقاصد کے حصول کے لیے ٹیکس پالیسی کا از سر نو اور موثر جائزہ لینا ہوگا اور ٹیکسوں کے نظام کوغیرجانبدار اور شفاف بنانا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…