اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

ٹرمپ کا جنگی جنون،اربوں ڈالر کے اسلحے کے معاہدے،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 4  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)پینٹاگان ساڑھے آٹھ ارب ڈالر میں 90 جدید ترین ایف 35 طیارے خریدے گا،امریکی محکمہ دفاع اور طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے اس حوالے سے معاہدے کا اعلان کردیا۔امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ دفاع اور طیارہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن نے ایک معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت پینٹاگان ساڑھے آٹھ ارب ڈالر میں 90 جدید ترین ایف 35 طیارے خریدے گا۔اعلان میں کہا گیا ہے

کہ یہ پینٹاگان کی جانب سیاب تک کیا جانے والا کم ترین قیمت خرید کا معاہدہ ہے۔ریڈار پر دکھائی نہ دینے والے یہ لڑاکا طیارے ساڑھے نو کروڑ ڈالر فی طیارہ سے کم قیمت پر خریدے جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے یہ سودا دس کروڑ بیس کروڑ ڈالر فی طیارہ کی قیمت پر خریدے گئے تھے۔ اس طرح 90 طیاروں کے سودے میں پینٹاگان کو 72 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی بچت ہوئی ہے۔لاک ہیڈ مارٹن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایف 35 طیاروں کے پروگرام میں تیزی لانیاور قیمت گھٹانے میں ذاتی طور پر دلچسپی لی۔اس آرڈر میں طیاروں کو ان کی اصل قیمت سے 7 اعشاریہ 3 فی صد کم پر خریدا جا رہا ہے۔لاک ہیڈ اور اس کی شراکت دار کمپنیاں امریکی فوج اور اس کے 10 اتحادیوں کے لیے ایف 35 طیارے بنا رہی ہیں۔ایف 35 کو پرواز کے لیے بہت کم جگہ درکار ہوتی ہے۔ وہ عمودی لینڈ کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے اور بحری فورسز کے استعمال کے لیے بھی موزوں ہے۔امریکی محکہ دفاع آنے والے عشروں میں اپنی ایئر فورس کے لیے 391 ارب ڈالر کے جدید جنگی طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…