بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

’’سولر بی بی ‘‘پاکستان میں حیرت انگیز پراجیکٹ کا افتتاح کردیاگیا

datetime 24  جولائی  2016 |

اسلام آباد(این این آئی)ویمن چیمبر کی بانی صدرثمینہ فاضل نے کہا ہے کہ ملک کی نصف سے زیادہ آبادی خواتین پر مشتمل ہے جنھیں ترقی دئیے بغیر ملکی ترقی نا ممکن ہے۔ خواتین کی اکثریت دیہات میں رہتی ہے جو بجلی کی عدم موجودگی یا لوڈشیڈنگ کی وجہ سے غروب آفتاب کے بعد کام کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ انکا یہ مسئلہ حل کرنکے انھیں با اختیار بنانے اور انکا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے متعدد اداروں نے مل کر سولر بی بی پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا ہے جس سے خواتین کی زندگیوں میں انقلاب آ جائیگا۔پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ویمن چیمبر، سینٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، سینٹر فار ویمن انٹرپیونرشپ اور سیلف ایمپلائیڈ ایسوسی ایشن مل کر کام کریں گے جبکہ تکنیکی معاملات کی نگرانی سینٹر آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر جنرل عمار جعفری کریں گے۔ شمسی توانائی سے چلنے والے لیمپوں کی مدد سے خواتین مغرب کے بعد بھی کام کر سکیں گی جبکہ کاشتکار فجر سے قبل کھیتوں میں پانی لگانے کا کام بھی بہ آسانی کر سکیں گے۔ اس سے بیوہ خواتین کو بہت فائدہ ہو گا جو اپنے گھرانے کا پورا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں۔ اپنے خطاب میں عمار جعفری نے کہا کہ پاکستان میں 44 فیصد گھر نیشنل گرڈ سے منسلک نہیں جن میں سے اسی فیصد دیہی علاقوں میں واقع ہیں۔ ان میں سے نصف روشنی کیلئے مٹی کا تیل استعمال کرتے ہیں جو مضر صحت اور مہنگا ہے۔ایک سولر لیمپ سے دس سال تک سالانہ پانچ سے چھ سو لیٹر ایندھن کی بچت ہو گی۔انھوں نے کہا کہ حکومت کو چائیے کہ سولر ٹیکنالوجی کی ترقی کیلئے ہر ممکن اقدام کرے تاکہ بجلی سے محروم آبادی کا معیار زندگی بلند کیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…