منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

ادائیگیوں کے متبادل ڈجیٹل ذرائع متعارف ،اسٹیٹ بینک نے تفصیلات جاری کردیں

datetime 9  مئی‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی) اسٹیٹ بینک نے ادائیگیوں کے متبادل ڈجیٹل ذرائع متعارف کروا کر الیکٹرانک ادائیگیوں کو فروغ دینے اور کارڈ کی صنعت میں ہونے والی ٹیکنالوجی کی ترقی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وسیع تر مالی شمولیت کے حصول کے لئے پری پیڈ کارڈ کے ضوابط جاری کر دیئے ہیں۔ مرکزی بینک سے پیرکو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پری پیڈ کارڈ ادائیگی کا ایک آلہ ہے جو ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز میں استعمال ہونے والے بالترتیب ابھی ادائیگی اور بعد میں ادائیگی کے ماڈلز پر تشکیل دیا گیا ہے۔ پری پیڈ کارڈز کو رسمی بینکاری اکاؤنٹ کھولے بغیر آبادی کے بینکاری سہولتوں سے محروم طبقات کو رسمی مالی مصنوعات کی فراہمی کے لئے مثالی سمجھا جاتا ہے۔ پری پیڈ کارڈز کو ٹرانزیکشن بینکاری اکاؤنٹ کے متبادل کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کی خصوصیات ٹرانزیکشن بینکاری اکاؤنٹس میں مہیا کی جانے والی خصوصیات سے مماثلت رکھتی ہیں، اس کے نتیجے میں سمجھا جا رہا ہے کہ پری پیڈکارڈز مالی شمولیت کی ٹارگٹنگ کو نہ صرف بینکاری سہولتوں سے محروم کم آمدنی والے افراد کے لئے ممکن بنانے بلکہ روایتی بینکاری خدمات کے روایتی صارفین کو اس کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ پری پیڈ کارڈ کے صارفین اے ٹی ایم کے ذریعے رقم نکلوا سکتے ہیں اور منتقل کر سکتے ہیں، امتحانات کی فیس ادا کر سکتے ہیں، آن لائن خریداری اور بیرونِ ملک سفر کر سکتے ہیں اور انہیں ڈیبٹ/ کریڈٹ کارڈ کی ضرورت یا اس کی پابندی نہیں کرنی ہوگی، چنانچہ پیمنٹ کارڈز کے استعمال سے وابستہ خطرات کم ہو جائیں گے۔ یہ ضوابط فنانشل ایکشن ٹاسک فورس( ایف اے ٹی ایف) کی جاری کردہ بین الاقوامی سفارشات کے مطابق تیار کئے گئے ہیں جن کا مقصد اینٹی منی لانڈرنگ دہشت گردی کی مالی معاونت سے منسلک ان خطرات کو کم کرنا ہے جو پری پیڈ کارڈز سے وابستہ ہوتے ہیں، اس مقصد کے لئے متعلقہ پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے مثلاً پری پیڈ کارڈ کا اجرا، لوڈ کی جائز حد، استعمال کی حد، تنازعات کا حل اور صارف کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دیگر عملی پہلووں کا احاطہ، اس کے علاوہ ملکی مارکیٹ میں اس کارڈ کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے مالی اداروں کو اجازت دی گئی ہے کہ مجاز ڈیلروں کے ذریعے پری پیڈ کارڈ جاری کریں، ان ضوابط سے پاکستان میں بینکوں کو موقع ملے گا کہ وہ ملک میں پری پیڈ کارڈز کی مارکیٹ تشکیل دے سکیں تاکہ بینک خدمات سے محروم طبقے کو ادائیگی کے مزید طریقے دستیاب ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیار کے مطابق حفاظت، سلامتی اور صارف کا تحفظ یقینی بنانے کے اقدامات بھی کئے جا سکیں۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…