پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے ایک سال میں کس طرح بجلی صارفین سے 50ارب نچوڑے ،تہلکہ خیزانکشاف پرسب چکراگئے

datetime 30  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی محمد یونس ڈھاگا نے انکشاف کیا ہے کہ بجلی کی صارفین سے ایک سال میں 50 ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔وفاقی حکومت کے 3600 میگاواٹ کے ایل این جی پاور پلانٹ میں سے 2400 میگاواٹ کے پاور پلانٹ دسمبر 2017ءسے پیداوار شروع کر دینگے۔بدھ کو یہاںمقامی ہوٹل میں سرکاری اداروں میں شفافیت کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کے دوران سیکرٹری پانی و بجلی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے بہترطرزحکمرانی اور شفافیت پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی بدولت قومی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح پانی و بجلی کے منصوبوں بالخصوص ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کامیابی سے تکمیل کی جانب گامزن ہیں۔ وفاقی سیکرٹری نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو بجلی کا نظام درہم برہم تھا لیکن حکومت شفاف پالیسی اختیار کرتے ہوئے نہ صرف وصولیوں میں بہتری لائی بلکہ لائن لاسز اور بجلی چوری کی روک تھام کیلئے ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات کئے جس کی بدولت لوڈ شیڈنگ میں کمی آئی اور صنعتی پہیہ رواں دواں ہوا اور ایک سال میں 50 ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے آئی پی پیز اور تیل کی قیمتوں کا فائدہ براہ راست عوام کو پہنچانے کی کوئی پالیسی نہیں بنائی تاہم موجودہ حکومت نے ایک منصوبہ بندی کے تحت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ملک میں ہونے والی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فوری فائدہ عوام الناس تک پہنچانے کیلئے اس جامع پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جس سے سالانہ 12 ارب روپے کا فائدہ حکومت کو بھی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت 3600 میگاواٹ کے ایل این جی پاور پلانٹ میں سے 2400 میگاواٹ کے پاور پلانٹ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت لگا رہی ہے جو دسمبر 2017ءسے پیداوار شروع کر دینگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…