ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان کا مسلم ممالک کے درمیان مضبوط معاشی تعاون پر زور

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیرنے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کے تحت مسلم ممالک کے مابین تجارت میںاضافے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، ممبر ممالک کے درمیان مضبوط معاشی اور تکنیکی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے، باہمی تجارت میں اضافے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے اسلامی تعاون تنظیم کی معاشی اور تجارتی تعاون کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے 31ویں اجلاس سے خطاب میں کیا۔ وزارت تجارت کے مطابق اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس استنبول میں 23 کو شروع ہوا اور 26نومبر تک جاری رہے گا، اس سلسلے میں وزارتی اجلاس بدھ 25 نومبر کو منعقد ہوا جس میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر تجارت نے کی۔ تنظیم کے ایشیا گروپ کے ممبران کی درخواست پر وفاقی وزیر نے تمام ایشیائی گروپ کا موقف پیش کیا۔
وفاقی وزیر نے اسلامی ممالک کے مابین تجارت میں اضافے کے لیے ٹیرف میں کمی، نان ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرنے، ایکسپورٹ سبسڈیز اور ٹیکسوں کی درستی، ٹریڈ فنانسنگ میں اضافے، حکومتی خریداری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے، دفاعی تجارتی میکنزم میں بہتری لانے، درآمدات میں رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2012 میں اسلامی تعاون تنظیم کے ممبران کے مابین مجموعی تجارت دنیا کی تجارت کا 18.2فیصد تھی جبکہ پاکستان کی تنظیم کے ممبران کے ساتھ تجارت ملکی تجارت کا 40 فیصد تھی، ان ممالک کو پاکستانی برا?مدات 35فیصد جبکہ درا?مدات 44.7فیصد تھیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے تحت مسلم ممالک کے مابین تجارت میں اضافے کے لیے کردار ادا کرنے کوتیار ہیں، ممبر ممالک کے درمیان مضبوط معاشی اور تکنیکی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے، باہمی تجارت میں اضافے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…