پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ایل ای ڈی لائٹس کلیئرنس؛ 1.38کروڑکی ڈیوٹی چوری بے نقاب

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) پاکستان کسٹمز کے ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے ایل ای ڈی لائٹس کی کسٹم کلیئرنس پر ڈیوٹی و ٹیکسوں کی ترغیبات کا ناجائز فائدہ اٹھانے والی 5 مختلف درآمدکنندہ کمپنیوں کی نشاندہی کردی ہے جنہوں نے بے قاعدگیاں کرتے ہوئے قومی خزانے کو 1 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا نقصان پہنچایا۔منظم بے قاعدگی کے اس انکشاف کے بعد ڈائریکٹوریٹ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ نے 5 کمپنیوں کو آڈٹ آبزرویشن کا اجرا کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ 1کروڑ 38 لاکھ روپے مالیت کی کسٹم ڈیوٹی وٹیکسوں کی فوری طور پر ادائیگیاں کریں۔ذرائع نے ”ایکسپریس“ کو بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کراچی نے ایل ای ڈی لائٹس کے کلیئر ہونے والے درآمدی کنسائمنٹس سے متعلقہ دستاویزات و دیگر ڈیٹاکی جانچ پڑتال کی تومعلوم ہواکہ 5درآمدکنندگان نے حکومتی سطح پر متعارف کردہ رعایتوں کا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قومی خزانے کو ریونیو کی مد میں بھاری نقصان پہنچایا، ان کمپنیوں میں میسرز انٹرنیشنل فینسی لائٹ، میسرز احمد میڈکس، میسرز ریکٹ بینسکرپاکستان لمیٹڈ، میسرزکائنات انٹرپرائزز، میسرز ناز انٹرنیشنل شامل ہیں۔ جنہوں نے جون 2015 اور اگست 2015 کے دوران ایل ای ڈی لائٹس، ایل ای ڈی پینل کے درآمدی کنسائمنٹس کی کلیئرنس کے لیے کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس قوانین کے تحت رعایتوں سے غلط طریقے سے استفادہ کیا اور قومی خزانے کو مجموعی طور پر 1کروڑ 38 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔
ذرائع نے بتایاکہ کسٹمزڈیوٹی، سیلز ٹیکس اورانکم ٹیکس کے قانون میں موجود رعایت کا غلط استعمال کرتے ہوئے میسرز انٹرنیشنل فینسی لائٹ نے 27لاکھ13ہزار، میسرز احمد میڈکس نے 31 لاکھ61 ہزار، میسرزریکٹ بینسکر پاکستان لمیٹڈ نے 48 لاکھ 48 ہزار، میسرز کائنات انٹرپرائزز 22 لاکھ اور میسرز ناز انٹرنیشنل نے 9لاکھ روپے مالیت کے ڈیوٹی وٹیکسزکی کم ادائیگی کی تاہم ڈائریکٹوریٹ پوسٹ کلیئرنس آڈٹ نے مذکورہ درآمدکنندگان کے خلاف آڈٹ آبزرویشن کا اجرا کرتے ہوئے 10یوم میں اپنے وضاحت پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…