لاہور(نیوزڈیسک) چین کے سرمایہ کاروں نے پاکستانی تاجروں کے ساتھ شمسی اور کوئلے سے توانائی کی پیداوار کے منصوبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پیر کو ایشیاء پیسیفک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سن ہوئی اور مین شائن کی مس فینگ وونگ نے لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد سے ملاقات میں بتایا کہ پاکستانی اور چینی تاجروں کے درمیان مشترکہ منصوبہ سازی سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ لاہور چیمبر کے سابق صدر میاں شفقت علی بھی اس موقع پرموجود تھے۔ ایک سوال کے جواب میں چینی وفد کے اراکین نے کہا کہ وہ متحدہ ارب امارات کے تاجروں کے ساتھ بھی مشترکہ منصوبہ سازی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی تاجر برادری پاکستان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ہمہ وقت پاکستان میں سرمایہ کاری کو تیار ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر شیخ محمد ارشد نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چینی تاجروں کے درمیان زراعت، لائیوسٹاک، انفراسٹرکچر، توانائی، آٹوموبیل اور دیگر شعبوں میں تعاون اور مشترکہ منصوبہ سازی کا فروغ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتی عالمی معاشی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک کو معاشی اور دفاعی تعاون مزید بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کاروباری ماحول انتہائی بہترین اور سرمایہ کار دوست ہے جس سے چینی تاجروں کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ باہمی تجارت بڑھ رہی ہے لیکن دونوں ممالک کی پوٹینشل اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قالین، لیدر، لیدر مصنوعات، آلات جراحی، کھیلوں کا سامان، پھل، سبزیاں، چاول، فارماسیوٹیکل اور کپاس سمیت پاکستانی مصنوعات معیار کے حوالے سے بہترین ہیں لہذا چینی درآمد کنندگان کو یہ اشیاء پاکستان سے ترجیحی بنیادوں پر منگوانی چاہئیں۔ شیخ محمد ارشد نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تاجر تعمیرات، ہوٹل، سیاحت، ایس ایم ایز، کمپیوٹر، ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کارپوریٹ فارمنگ، سی فوڈ، فوڈ پراسیسنگ، بینکنگ اینڈ فنانس، لائٹ انجینئرنگ وغیرہ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کا آغاز کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اور زراعت کے شعبوں میں پاکستان کو چینی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جبکہ چین اس شعبے میں وسیع مہارت رکھتا ہے، اگر اس شعبے میں مشترکہ منصوبہ سازی کی جائے تو اس سے دونوں ممالک کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار بڑھنے سے نہ صرف مقامی ضرورت پوری ہوگی بلکہ اضافی پیداوار چین کو بھی برآمد کی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی فوڈ پراسیسنگ کے شعبے میں بھی دونوں ممالک مل کر کام کرسکتے ہیں
چینی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں منوبہ سازی میں اظہاردلچسپی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بسنت کے معاملے میں
-
رمضان 2026 میں صدقۂ فطر اور فدیہ کی نئی رقوم مقرر
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: آئی سی سی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور، پاک بھارت میچ ہونے کا امکان
-
سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پی ٹی آئی کے2 اہم رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا
-
پنجاب حکومت کی بیوہ خواتین کیلئے سپورٹ کارڈ اسکیم منظور
-
صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب جاری
-
ڈرائیورز خبردار، آن لائن ٹیکسی والوں کے لیے نیا الرٹ جاری
-
سینئر صحافی بلال غوری کراچی ائیرپورٹ سے گرفتار
-
اداکارراجپال یادیو قرض تنازع کیس میں تہاڑ جیل منتقل
-
38 سالہ سافٹ وئیر انجینئر کی گردن پر ڈور پھر گئی
-
کن ممالک میں روزے سب سے طویل اور سب سے چھوٹے ہونگے؟
-
جواایپ پروموشن کیس: ڈکی بھائی اور عروب جتوئی پر فردجرم عائد
-
رمضان المبارک کب شروع ہوگا؟ ماہرین فلکیاتی کی اہم پیش گوئی



















































