بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

کاشتکار فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کےلئے جدید طریقہ کاشت اپنائےں ،شیخ یٰسین

datetime 19  مئی‬‮  2015 |

وہاڑی(نیوز ڈیسک)ڈسٹرکٹ آفیسر زراعت توسیع شیخ یٰسین نے کہا ہے کہ کاشتکار فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کےلئے جدید طریقہ کاشت کو اپنائےں اور فرسود ہ طریقہ کاشت کو ترک کر دیں ۔کپاس کی فصل بارے ریفریشر کورس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں زیادہ تر چھوٹے کاشتکار ہیں کم رقبہ کے حامل ان کاشتکاروں کو طریقہ کاشت جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر اپنا ہو گا تاکہ کم رقبہ سے زیادہ فی ایکڑ پیداوار حاصل کی جا سکے انہوں نے کہاکہ زیادہ پیداوار کے حصول کے نتیجہ میں ہمارے پیداواری اخراجات میں بھی کمی آئیگی ڈی ڈی او زراعت محمد اسماعیل وٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاشتکار محکمہ زراعی کی سفارشات کے مطابق صرف کپاس کی ترقی دادہ اور منظور شدہ اقسام کاشت کریں انہوں نے کہا کہ کاشتکار بی ٹی او نان بیٹی کپاس کی پہچان کینا مائی سینسلفیٹ ٹیکے کے ذریعے کریں اورنان بی ٹی کپاس کے پودے ہونے کی صورت میں ان پر روایتی کپاس کی طرح سپرے کریں اور کاشت سے قبل بےج کو زہر آلود کریں جس سے 60یوم تک فصل رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رہتی ہے اسسٹنٹ کاٹن باٹنسٹ کاٹن ریسرچ اسٹیشن وہاڑی چودھری خالد محمود نے کہا کہ کپاس کی منظور شدہ اور ترقی دادہ اقسام FH-142,MNH-886,VH-259,IUB-222,CIM-599, BH-178کے بارے میں مفید معلومات فراہم کیں،زراعت آفیسر پلانٹ پروٹےکشن رانا محفوظ الحق نے کپاس کے ضرر رساں کیڑوں خصوصی ڈسکی بگ کے کنٹرول بارے میں معلومات فراہم کیں اسسٹنٹ ریسرچ آفیسر ڈاکٹر لیاقت علی کپاس کی پیداواری ٹےکنالوجی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کے فی ایکڑ پودوں کی تعداد کو پورا کرنے سے پیداوار میں اضافہ ممکن ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…