بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے راستے افغان تجارت بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں،خرم دستگیر

datetime 18  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کے راستے تجارت میں سہولت دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جس سے توقع ہے کہ اس شعبے میں دوطرفہ تعاون کو وسعت ملے گی۔چاروں طرف سے خشکی سے گھرے افغانستان کو بین الاقوامی تجارت کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک کے زمینی اور بحری راستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔کئی دہائیوں تک افغانستان کی بیشتر تجارت پاکستان کے ذریعے ہوتی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں بعض پیچیدہ قوانین، انتظامی دشواریوں اور زیادہ لاگت کے باعث افغان تاجروں نے ایران کا رخ کیا ہے۔افغانستان کی پاکستان کے راستے ہونے والی تجارت میں کمی کی بڑی وجہ 2010ء میں افغانستان کے ساتھ تجارتی راہداری کے معاہدے پر نظر ثانی تھی، جس کے بعد افغان تجارتی مال کے لیے سخت نگرانی اور ضوابط متعارف کرائے گئے تھے۔وفاقی وزیر کے مطابق موجودہ حکومت نے پاکستان کے راستے ہونے والی افغان تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے متعدد سہولیات کی پیشکش کی ہے۔خرم دستگیر نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ پاکستان نے ملک سے گزرنے والے سارے افغان مال کی اسکیننگ یا جانچ کی بجائے صرف 20 فیصد مال کی جانچ کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے جلدی ہی ایسی ریل سروس بھی شروع کرے گی جس کے ذریعے افغان تجارتی سامان کو طورخم اور چمن سے بندرگاہوں اور واہگہ بارڈر تک لایا جا سکے گا۔خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ”افغان ٹرکوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ پاکستان کی بندرگاہوں تک آ سکتے ہیں اور پاکستان سے برآمدی سامان افغانستان لے جا سکتے ہیں۔“حکام کے مطابق اس سے پاکستان کی افغانستان کو بھیجی جانے والی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔خرم دستگیر نے بتایا کہ اب تجارتی سامان کو 24 سے 48 گھنٹے کے اندر کلیئر کیا جا رہا ہے جبکہ اس سے پہلے اسے ہفتوں انتظار کی زحمت اٹھانا پڑتی تھی۔پاکستان کے راستے تجارت کے بارے میں افغانستان کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے خرم دستگیر نے حال ہی میں کابل کا دورہ بھی کیا تھا۔ایران کے ساتھ تجارت کے حجم میں کمی کے بارے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ایران پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کے ایران کے ساتھ بینکاری روابط موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ادائیگیوں کا نظام وضع کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جس سے ایران کے ساتھ تجارت دوبارہ بحال ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…