جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

بلڈنگ میٹریل پر درآمدی ریگولیٹری ڈیوٹی سے استثنیٰ کی تجویز

datetime 12  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک) مقامی تعمیراتی شعبے کی تیزرفتار ترقی کیلیے منظم شعبے کے بلڈرزکواسٹیل پروڈکٹس کی درآمدات پرریگولیٹری ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز پیش کردی ہے۔یہ تجویزایسوسی ایشن آف بلڈرزاینڈ ڈیولپرز (آباد)کے چیئرمین جنید اشرف تالوکی جانب سے حکومت کوارسال کردہ بجٹ تجاویز میں دی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تعمیراتی صنعت کی ترقی کی رفتارتیزہونے سے معیشت کے دیگر شعبوں کی ترقی کی رفتار بھی تیزہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اسٹیل بلٹس پر 5فی صد ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کرنے کے نتیجے میں ہاو¿سنگ اینڈ کنسٹرکشن میں استعمال کیے جانے والے اسٹیل بارز سمیت اسٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جس کے تعمیراتی سرگرمیوں پرمنفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کے درآمدی اسٹیل مصنوعات پر ریگولیٹری ڈیوٹی کا نفاذ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب حکومت وزیر ا عظم نواز شریف کے ہاو¿سنگ و ڑن2025پر عمل درآمدکے سلسلے میں کم آمدنی والے غریب افراد کے لیے سالانہ پانچ لاکھ مکانات تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہ اقدام وزیر ا عظم کے ہاو¿سنگ و ڑن کے خلاف سازش ہے۔
بیورو کریٹس نے اسٹیل مصنوعات سے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کے بجائے ایک مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچانے کی غرض نے ایم ایس بلٹس پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کروادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیل تعمیراتی صنعت کا بنیادی بلڈنگ مٹیریل ہے۔پاکستان اسٹیل ملز کی پیدوار تاحال غیر یقینی کا شکار ہے جبکہ گڈانی شپنگ یارڈ سے شپ بلٹس کی سپلائی بھی محدود ہوگئی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت فی الفورایم ایس بلٹس کی درآمد پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ہٹانے کا اعلان کرے یا دوسری صورت میں آباد کے ممبر بلڈرز کوریگولیٹری ڈیوٹی کی معافی کے ساتھ اسٹیل مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر تجارت خرم دستگیر ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ آباد کی وزارت خزانہ وتجارت سے استدعا ہے کہ وہ آباد کی ممبر تعمیراتی کمپنیوں کو ریگولیٹری ڈیوٹی کے بغیراسٹیل مصنوعات درآمدکرنے کی اجازت دیں۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…