بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں مونگ پھلی کی پیداوار 112 ہزار ٹن ہوگئی

datetime 11  مئی‬‮  2015 |

فیصل آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں مونگ پھلی کی کاشت کا رقبہ 108 ہزار ایکڑ اور مجموعی پیداوار 112 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے جبکہ کاشت کے حوالے سے پنجاب کا رقبہ 92 فیصد، خیبر پختونخوا کا 7 فیصد اور سندھ کا1 فیصد تک ہوگیا ہے۔ نیز 87 فیصد مونگ پھلی چکوال، اٹک، جہلم، راولپنڈی سے حاصل کی جارہی ہے اور باقی پیداوار صوابی، کوہاٹ، پارا چنار، مینگورہ، سانگھڑ، لاڑکانہ سے حاصل ہو رہی ہے۔
محکمہ زراعت کے ترجمان نے بتایاکہ مونگ پھلی بارانی علاقوں کی موسم خریف کی اہم ترین اور نقد آور فصل ہے۔ انہوں نے بتایاکہ مونگ پھلی کے بیج میں44 سے56 فیصد اعلیٰ معیار کا خوردنی تیل اور22 سے30 فیصد لحمیات پائے جاتے ہیں، اس لیے اس کا غذائی استعمال انسانی صحت و تندرستی کو بر قرار رکھنے کے لیے مفید ہے جبکہ اس کا خوردنی تیل ملکی معیشت کیلیے بہت اہمیت رکھتاہے کیونکہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کیلیے ہر سال کثیر زرمبادلہ خرچ کرکے خوردنی تیل درآمد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایاکہ مونگ پھلی کی فصل کیلیے گرم مرطوب آب و ہوا موزوں ہے اور دوران بڑھوتری مناسب وقفوں سے بارش اس کی بہتر نشوونما کیلیے بے حد مفید ہے۔انہوں نے بتایاکہ بارانی علاقوں کے زمینی و موسمی حالات میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ مونگ پھلی کے زیر کاشت رقبے کا بیشتر حصہ بارانی علاقہ جات پر مشتمل ہے اور مونگ پھلی کی ترقی دادہ اقسام کی پیداواری صلاحیت و پیداوار میں فرق موجود ہے جبکہ اس فرق کی وجہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے رہنما اصولوں سے کاشتکاروں کی لاعلمی اور عدم دلچسپی ہے جس کے نتیجے میں پیداوار میں اس حد تک کمی پائی جاتی ہے۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار جدید زرعی ٹیکنالوجی کے رہنما اصولوں پر عمل کرکے اپنی پیداوار میں دو سے تین گنا اضافہ کرسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…