بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

تجارتی پالیسی کی کامیابی کے لیے پلان ترتیب دیدیا، خرم دستگیر

datetime 5  مئی‬‮  2015 |
Px06-065 ISLAMABAD: Nov06 – Minister of State for Commerce Engr. Khurram Dastagir addressing a press conference in Islamabad. ONLINE PHOTO

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر تجارت انجنیئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ تیسرا سٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2015-18آئندہ چند ماہ میں پیش کر دیا جائیگا۔ملک میں امن وامان اور توانائی کی بہتر ہوتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ملک میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے،متعدد عالمی اداروں نے پاکستان کے معاشی اعشاریوں کو مثبت قرار دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں وزارت تجارت کی ایڈوائزری کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں وزارت ٹیکسٹائل، صنعت و پیداوار، فوڈ سیکیورٹی، پانی وبجلی، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،انفارمیشن ٹیکنالوجی، بورڈ آف انویسٹمنٹ، سمیڈا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، ضلعی چیمبرز، برآمدی ایسوسی ایشنز اور ریسرچ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلا س میں بتایا گیا کہ نئی تجارتی پالیسی کیلیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز مانگی گئی تھیں جس کے نتیجے میں وزارت تجارت کو 800سے زائد تجاویز موصول ہوئیں، جنھیں مکمل جانچ پڑتال کے بعد آئندہ تجارتی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔
اجلاس میں موجود حاضرین نے پاکستانی تجارت میں اضافے کیلیے کہا کہ پاکستانی برآمدات کی موثر مارکیٹنگ اور برانڈنگ کیلیے پاکستان کے ٹریڈ افسران مثبت کردار ادا کریں۔ انھوں نے کہا کہ عالمی سرٹیفکیشن کے حصول کیلیے وزارت تجارت برآمدکنندگان کی مدد کرے تاکہ چھوٹے ایکسپورٹرز یورپ اور امریکا کی منافع بخش منڈیوں تک اپنا مال بھجوا سکیں۔ انھوں نے حکومت سے درخواست کی کہ بزنس مین کیلیے ویزے کے حصول میں آسانی پیدا کرنے کیلیے دوسری حکومتوں سے مذاکرات کیے جائیں۔ حاضرین نے متعدد سیکٹروں میں ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں کمی کیلیے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔ سیکریٹری کامرس شہزاد ارباب نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ وزار ت تجارت ٹیرف اسٹرکچر کو حقیقت پسندانہ اور شفاف بنانے کیلیے اقدامات کر رہی ہے۔
اس سلسلے میں وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی کام کر رہی ہے جس میں مختلف وزارتوں اور تجارتی ایسوسی ایشنز کے نمائندے شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ تجارتی پالیسی کی کامیابی اور اس کے موثر نفاذ کیلیے جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے جس کا اعلان بھی تجارتی پالیسی کے ساتھ ہی کر دیا جائے گا۔ ایڈوائزری کونسل کی میٹنگ بھی ہر سال منعقد کی جائے گی جس میں تجارتی پالیسی پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا اور ان کے حل کیلیے تجاویز طلب کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…