بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

کپاس کی سالانہ پیداوار بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

datetime 4  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)کاٹن ایئر 2014-15 کے اختتام پر پاکستان میں کپاس کی مجموعی سالانہ پیداوار ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ۔کاٹن جنرز ایسوسی ایشن ،اپٹمااور کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے اشتراک سے جاری حتمی اعدادوشمار کے مطابق 30 اپریل تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 48 لاکھ 71 ہزار 174 بیلز کے برابر پھٹی پہنچی جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 14 لاکھ 79 ہزار 480 بیلز (11.05 فیصد)زائد ہے ۔رپورٹ کے مطابق پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں ایک کروڑ 8لاکھ 96ہزار 674 بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 12 لاکھ 65 ہزار 312 بیلز (13.14 فیصد) زائد ہے جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں مذکورہ عرصے تک 39 لاکھ 74 ہزار 500 بیلز کے برابر پھٹی پہنچی جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2لاکھ 14ہزار 168بیلز( 5.7فیصد) زائد ہے ۔
کاٹن ایئر 2014-15 کے دوران ٹیکسٹائل ملز نے ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں سے مجموعی طور پر ایک کروڑ 40 لاکھ 73 ہزار 195بیلز خریدیں جبکہ 4لاکھ 75 ہزار 174 بیلز بیرون ملک برآمد ہونے کے ساتھ ساتھ ٹی سی پی نے بھی اس سال کے دوران جننگ فیکٹریوں سے 94 ہزار 900 بیلز خریدیں ۔چیئر مین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ کاٹن کراپ اسسمنٹ کمیٹی نے کاٹن ایئر 2014-15 کیلئے کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کا تخمینہ ایک کروڑ 34 لاکھ 885 بیلز لگایاتھا جن میں سے 99 لاکھ بیلز پنجاب سے اور 34 لاکھ 80 ہزار بیلز سندھ سے پیدا ہونے کی توقع تھی ۔انہوں نے بتایا کہ معروف امریکی زرعی ادارے انٹر نیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی)نے 2014-15 کے دوران پاکستان میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں پچھلے سال کے مقابلے میں 14 فیصد اضافے سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں 2014-15 کے دوران کپاس کی فی ایکڑپیداوار 765 کلو گرام کے مقابلے میں پاکستان میں 810 کلو گرام فی ایکڑرہی جس کے باعث رواں سال پاکستان میں کپاس کی ریکارڈ پیداوار سامنے آئی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2014-15 کے دوران پاکستان میں سب سے زیادہ کپاس سندھ کے ضلع سانگھڑ میں پیدا ہوئی جہاں کی جننگ فیکٹریوں میں اس دوران 15 لاکھ 14 ہزار 268 بیلز کے برابر پھٹی پہنچی ہے جبکہ اس کے بعد پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں 14 لاکھ 82 ہزار 243 بیلز ،رحیم یار خان میں 14لاکھ 11 ہزار 756 بیلز ،بہاولپور میں 13 لاکھ 39 ہزار 338 بیلز جبکہ ضلع خانیوال میں 9 لاکھ 88ہزار 805 بیلز کے برابر پھٹی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…