جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

ایران سے غیر معیاری پھلوں کی غیر قانونی درامد و فروخت کھلے عام جاری

datetime 1  مئی‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)ایران سے غیرمعیاری پھلوں کی پاکستان آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ سیب کے سیزن میں بڑے پیمانے پر ایرانی سیب پاکستانی منڈیوں میں لائے جارہے ہیں جس سے مقامی کاشتکاروں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔دوسری جانب ایرانی سیب میں بیکٹیریا اور بیماری کی وجہ سے پاکستان میں بھی سیب کی بیماری پھیلنے کا خدشہ ہے۔ پھلوں کے تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران سے غیرقانونی طور پر پھلوں کی درآمد اور پاکستانی منڈیوں میں کھلے عام فروخت پر پابندی عائد کی جائے تاکہ پاکستان کے زرعی شعبے کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ فروٹ منڈی کے ذرائع کے مطابق ایرانی ٹرالر براہ راست کراچی فروٹ منڈی میں لائے جارہے ہیں یومیہ 3ٹرالرز پر مشتمل 66ہزار کلو گرام سیب کراچی کی فروٹ منڈی میں فروخت ہورہا ہے جو بعد ازاں ملک کی مختلف منڈیوں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ایرانی سیب 80سے 100روپے فی کلو تھوک قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے ایرانی سیب کی آمد سے پاکستانی سیب کے کاشتکاروں کو یومیہ 52سے 66لاکھ روپے نقصان کا سامنا ہے۔ پاکستان میں سیب کی اعلیٰ اقسام پیدا ہونے اور بھرپور فصل کے باوجود ایران سے سیب کی ا?مد کا رجحان بڑھ رہا ہے جس سے سیب کے باغات جو زیادہ تر بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں قائم ہیں مالی نقصان کا سامنا کررہے ہیں اور سیب کے باغات تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں۔ تاجروں کے مطابق ایرانی سیب بغیر کسی قرنطینہ جانچ کے پاکستانی منڈیوں میں فروخت کیا جارہا ہے۔پاکستانی ٹرالرز کو ایران میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے لیکن ایرانی ٹرالرز نہ صرف آزادانہ پاکستانی حدود میں داخل ہورہے ہیں بلکہ سیکڑوں کلو میٹر فاصلہ طے کرکے کراچی کی فروٹ منڈی میں مال فروخت کررہے ہیں۔ ایرانی سیب کا معیار بھی بہت خراب ہے اور عام خریداروں کو بھی نقصان کا سامنا ہے۔ ایرانی سیب اندر سے سیاہی مائل اور گلا ہوا نکلتا ہے، ایرانی سیب کو کولڈ اسٹوریج میں بھی نہیں رکھا جاسکتا، اس لیے بیوپاریوں اور ٹھیلے والوں کو بھی نقصان ہورہا ہے۔ادھر پاکستانی قرنطینہ ڈپارٹمنٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران سے پھلوں کی آمد پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ایران سے پاکستان انٹری کے راستوں کوئٹہ اور گوادر میں قرنطینہ جانچ کے لیے چیک پوسٹ اور لیبارٹری کے قیام کی تجویز پر غور جاری ہے۔ خود پاکستان کسٹم نے کوئٹہ میں کسٹم کے ساتھ قرنطینہ پوسٹ قائم کرنے کی تجویز کی ہے تاکہ ایران سے آنے والے پھلوں کے کنٹینرز کی جانچ کی جاسکے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…