بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

حکومت زرعی شعبے کے فروغ کو اولین ترجیح دے رہی ہے ،وزیر خزانہ

datetime 28  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت زرعی شعبے کو فروغ دینے کو اولین ترجیح دے رہی ہے جس کا مقصد2017تک سات فیصد شرح نمو حاصل کرنا ہے ۔ زراعت، انفرسٹرکچر، توانائی اور ٹیلی مواصلات کے شعبوں میں ترقی سے 2017-18ءتک 7 فیصد تک کا اقتصادی نمو کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ آر فنانسنگ سے چھوٹے کاشتکاروں کو مالی خدمات کی فراہمی کیلئے بینکوں کو سہولت ملے گی وہ منگل کو متنوع زرعی امداد کے بارے میں دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی شرح نمو۔بڑھانے کی خاطر کاشتکاروں کیلئے جلد قرضے فراہم کرنے کی سہولت کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو تیز تر ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی پیداوار میں اضافے کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور کاشتکاری کے بہترین طریقے متعارف کرا کر خوراک کا تحفظ یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے زرعی قرضوں کو پانچ سو ارب روپے تک بڑھا دیا ہے۔وزیر خزانہ نے دنیا کے دیگر ملکوں سے مسابقت کیلئے مختلف اقسام کی فصلیں متعارف کرانے پر زور دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ حکومتی اقدامات کے نتیجہ میں زرعی پیداوار میں بہتری لانے، کاشتکاری کے جدید طریقے روشناس کرانا، مارکیٹ تک رسائی بڑھانے، فارمنگ کو مارکیٹ سے منسلک کرنے اور کاشتکاروں تک فوائد پہنچانے میں مدد ملے گی۔ اسحاق ڈار نے کہاکہ حکومت زرعی شعبہ کو قرضوں کی فراہمی کیلئے مالیاتی شعبہ کو سازگار ماحول فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ پاکستان میں ویئر ہاوس ریسپٹ فنانسنگ سسٹم کی ترقی کےلئے فریم ورک کی تشکیل سے متعلق کوششوں میں ذاتی طور پر شامل ہیںاس سلسلہ میں انہوں نے تقریباً ایک سال پہلے فنانشل اینوویشن چیلنج فنڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈبلیو ایچ آر فنانسنگ سے چھوٹے کاشتکاروں کو مالی خدمات کی فراہمی کیلئے بینکوں کو سہولت ملے گی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…