ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

ہیڈ کوارٹر ہے نا افسران اور نا ہی فیلڈ سٹاف کیلئے گاڑیاں سی ٹی ڈی کے پی کا صوبائی حکومت کو خط

datetime 22  دسمبر‬‮  2022 |

پشاور(این این آئی) محکمہ انسداد دہشتگری خیبر پختونخوا کو وسائل اور سینئر افسران کی کمی کا سامنا ہے۔محکمہ سی ٹی ڈی میں وسائل کی کمی اور ضروریات سے متعلق رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کی گئی جس میں کہا گیا کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا ہیڈ کوارٹر کے لیے الگ عمارت نہیں ہے، مردان کے علاوہ سی ٹی ڈی کے ریجنل ہیڈکواٹرز پر تعمیراتی کام مکمل نہیں کیا جا سکا۔

دستاویز میں کہا گیا کہ صوبے میں سی ٹی ڈی کے ضلعی دفاتر بھی موجود نہیں ہیں اور سی ٹی ڈی کو سینئر پولیس افسران کی بھی کمی کا سامنا ہے، سی ٹی ڈی اہلکاروں کی تربیت کے لیے اسکول ہے نہ ہی تربیتی عملہ، تفتیشی اہلکاروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل بھی نہیں ہے۔کے پی حکومت کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ سی ٹی ڈی صوبے میں سب جیلوں اور عملے کے لیے ہاسٹلز سے بھی محروم ہے اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کے پاس صرف 46 گاڑیاں ہیں، قبائلی اضلاع میں سی ٹی ڈی کے فیلڈ اسٹاف کے پاس ایک گاڑی بھی نہیں ہے۔سی ٹی ڈی کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ سی ٹی ڈی ہیڈکواٹر قائم کرنے کے لیے عمارت فراہم کی جائے اور ریجنل دفاتر پر کام جلد مکمل کیا جائے، اضلاع کی سطح پر سی ٹی ڈی دفاتر قائم کرنے کے لیے بھی عمارتیں دی جائیں۔خط میں مطالبہ کیا گیا کہ سی ٹی ڈی کے ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور ڈی ایس پیز کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی جائیں۔

قبائلی اضلاع میں سی ٹی ڈی کے فیلڈ اسٹاف کے لیے بھی گاڑیاں فراہم کی جائیں اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کی تربیت کے لیے تربیتی اسکول قائم کیا جائے۔صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سی ٹی ڈی عملے کے لیے ہاسٹل اور قیدیوں کو رکھنے کے لیے سب جیلیں قائم کی جائیں۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر داخلہ خیبرپختونخوا بابر سلیم سواتی نے کہا کہ سی ٹی ڈی پر بہت فنڈز خرچ کر رہے ہیں، سی ٹی ڈی کے 6 ریجنل ہیڈکواٹرز پر تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔بابر سلیم سواتی نے کہاکہ قبائلی اضلاع ضم ہونے کے بعد ہم پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جو کمی ہو گی اس کو تسلیم کریں گے اور وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھرپور اقدمات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…