سوات (نیوز ڈیسک)پہاڑوں کے دامن میں واقع گاو¿ں اسلام پور ضلع سوات کا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کا وہ واحد گاو¿ں ہے جہاں سولہ سترہ ہزار کی آبادی میں ایک بھی شخص بے روزگار نہیں ہے۔اس کے علاوہ گاو¿ں اسلام پور اپنے ہنرمند باسیوں کی وجہ سے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرونی ممالک کے سرد ترین خطوں میں ایک ایسے گاو¿ں کے طور پر پہچانا جاتا ہے جہاں بھیڑ بکریوں کے اون سے رنگ برنگی گرم اعلیٰ کوالٹی کی چادریں اور شالیں تیار کی جاتی ہیں۔یہاں سیزن میں ماہانہ تقریباً تین ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔اسلام پور گاو¿ں کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ اسلام پور کو یہاں کے ایک مذہبی پیشوا میاں نور بابا جی کی وجہ سے بھی کافی شہرت حاصل ہے۔میاں نور بابا جی کے حوالے سے مشہور ہے کہ وہ مذہبی علم کے حصول کے لیے ہندوستان گئے تھے اور جہاں سے علم حاصل کیا تھا، اس علاقے کا نام ”اسلامپور“ تھا۔ علم مکمل کرنے کے بعد واپسی پر آکر انہوں نے اپنے گاوں کا نام ”اسلامپور“ رکھ دیا۔لیکن یہاں اسلام پور کے ساتھ ساتھ اس گاو¿ں کو ”سلامپور“ بھی لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔اس حوالے سے ایک الگ روایت مشہور ہے اور وہ یہ کہ مذکورہ گاو¿ں کے فلک بوس پہاڑوں میں سے ایک ضلع سوات اور ضلع بونیر کی سرحد کا کردار بھی ادا کرتا ہے، تو اسی وجہ سے مشہور ہے کہ جب بھی کوئی بونیر سے سوات آتا تھا یا سوات سے کوئی بونیر جاتا تھا، تو مقامی لوگ دست بستہ کھڑے ہو کر ہر آنے جانے والے کو سلام کیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے علاقے کا نام ”سلامپور“ پڑ گیا۔گاو¿ں میں لبِ سڑک پر قائم اسکول چونکہ گورنمنٹ اسلام پور ہائی اسکول ہے اور اس کے علاوہ اسلام پور تک جانے والی سڑک پر نصب ایک بورڈ پر اسلامپور لکھا گیا ہے، اس وجہ سے زیادہ ترجیح اسی نام کو دی جاتی ہے۔اسلام پور آج کل پوری دنیا میں سرد موسم کے حامل خطوں میں اپنے ہنر مندوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں تیار ہونے والی چادریں، گرم شال، پکول اون سے بنی روایتی ٹوپی اور واسکٹ نہ صرف اندرون ملک بلکہ افغانستان، روس، یورپی ممالک اور دنیا کے ہر اس خطے میں بھیجی جاتی ہیں، جہاں درجہ حرارت منفی رہتا ہے۔آبادی کا 70 فی صد حصہ کھڈے کے کام سے وابستہ ہے، باقی ماندہ 30 فیصد میں بیشتر محکمہ پولیس اور دیگر سرکاری محکموں میں برسر روزگار ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں زراعت سے بھی لوگوں کی اچھی خاصی تعداد وابستہ ہے۔پورے گاو¿ں میں ساڑھے چار پانچ ہزار کھڈے ہیں۔ گاو¿ں اسلام پور میں روزانہ پندرہ تا سولہ ہزار مختلف کوالٹی کی چادریں اور شالیں تیار ہوتی ہیں۔ ایک چادر یا شال کی قیمت 500 سے لے کر 40 ہزار روپے تک ہے اور یہ نرخ معمول کے مطابق ہیں۔یہاں آرڈر پر تیار ہونے والی چادروں کی قیمت بسا اوقات 1 لاکھ روپے سے بھی متجاوز ہوتی ہے۔ اسی حساب سے گاو¿ں اسلام پور میں کم از کم 8 کروڑ روپے روزانہ کا کاروبار ہوتا ہے اور ماہانہ دو ارب ستر کروڑ کی حد عبور کرتا ہے۔کھڈے سے وابستہ لوگوں کی تعداد 40 ہزار سے زائد بنتی ہے جن میں اسلام پور گاو¿ں، مینگورہ شہر اور آس پاس کے علاقوں کے دکان دار، خام مال لانے، تیار کرنے والے اور تیار مال واپس چھوٹی بڑی منڈیوں تک پہنچانے والے شامل ہیں۔
پاکستان کاایک گاو¿ں جہاں کوئی بیروزگا رنہیں…………..
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
آئی سی سی ورلڈکپ 2027 میں براہ راست رسائی حاصل کرنے والی 10 ٹیمیں فائنل
-
پولیس حراست میں دو خواتین کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
رواں ہفتے تمام بینک 3 دن بند رہیں گے، اعلان ہوگیا
-
بجلی صارفین کو ریلیف ختم، ستمبر سے بلوں میں اضافے کا امکان
-
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے گفٹ اسکیم ! اہم خبر آگئی
-
12 اگست کو نایاب مکمل سورج گرہن، کیا پاکستان میں نظر آئے گا؟
-
شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں نیا موڑ
-
ملک میں سونا مزید مہنگا ہو گیا
-
مال روڈ پر فائرنگ کرنے والا پی ٹی آئی کا سرگرم رکن ہلاک، اہم انکشافات سامنے آگئے



















































