منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر جنرل باجوہ نے نہیں شہباز شریف نے بٹھایا،حامد میر

datetime 1  دسمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی اور کالم نگار حامد میر روزنامہ جنگ میں اپنے آج کےکالم میں لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے تو یہ جان لیجئے کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر جنرل باجوہ نے نہیں شہباز شریف نے بٹھایا۔ اگر شہباز شریف اپنے بھائی

نواز شریف کے خلاف بغاوت کردیتے تو 2018ء میں انہیں وزیراعظم بننا تھا۔ شہباز شریف کے انکار کے بعد جنرل باجوہ کے پاس کوئی چوائس نہ رہی، انہوں نے عمران خان کو جیسے تیسے اکثریت تو دلوا دی لیکن حکومت سازی کیلئے نمبرز پھر بھی پورے نہ تھے۔ عمران خان کو مرکز اور پنجاب میں سارے نمبرز جنرل باجوہ اور فیض نے پورے کرکے دیئے۔ یہی وجہ تھی کہ عمران خان کو جنرل باجوہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے اچھے آرمی چیف لگتے تھے ۔عمران خان اور جنرل باجوہ نے مل کر کرتار پور راہداری کھولی ۔کشمیری حریت پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے بار بار خبردار کیا کہ مودی سرکار پر اندھا دھند اعتماد مت کرو لیکن گیلانی صاحب کی کسی نے نہ سنی ۔کوئی مانے نہ مانے لیکن تاریخ میں یہ لکھا جا چکا ہے کہ جب 5اگست 2019ء کو مودی سرکار نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر آئینی قبضہ کیا تو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم اور جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف تھے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور معاہدہ عمران خان اور جنرل باجوہ نے مل کر کیا ۔عدالتوں سے سزا یافتہ مجرم مسلم خان کو صدر عارف علوی سے معافی بھی عمران خان نے دلوائی لیکن جب امن قائم نہ ہوا تو ذمہ داری فوج پر ڈال دی گئی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…