اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

قانون کے تحت عمران خان کو اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج کرانے کا حق حاصل لیکن جس ملک میں ساری طاقت آرمی چیف کے پاس ہو وہاں قانون پیچھے رہ جاتا ہے ، فوج آگے نکل جاتی ہے، حامد میر

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی اور کالم نگار حامد میر اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ یاد کیجئے کہ 2019ء میں جنرل باجوہ کے بطور آرمی چیف تین سال مکمل ہوئے تو ملک ایک نئے پھڈے میں پھنسا ہوا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان، لندن میں بیٹھے نواز شریف اور

نیب کے قیدی آصف زرداری نے ایک ’’عظیم اتفاق رائے‘‘ کے ساتھ جنرل باجوہ کو توسیع دے دی لیکن سپریم کورٹ نے پوچھا کہ یہ توسیع کس قانون کے تحت دی گئی؟ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے سیاستدان پارلیمینٹ میں اکٹھے ہوگئے اور توسیع کا قانون منظور کرا کے سپریم کورٹ کا منہ بند کردیا۔ جس جنرل باجوہ کو عمران خان نے خود توسیع دلائی اور سیاسی مخالفین کے ساتھ مل کر ان کی توسیع کا قانون بنوایا، آج وہی جنرل باجوہ بہت بڑا ولن بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں آرمی چیف کو صدر اور وزیر اعظم سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے اور اسی لئے ہر وزیر اعظم اپنی مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتا تھا۔ کیا یہ تقرری صرف اور صرف میرٹ پر نہیں ہوسکتی؟ اگر عمران خان بھی 2019ء میں میرٹ کا خیال رکھتے تو آج ہاسپیٹل میں پریس کانفرنس کے ذریعہ یہ نہ بتارہے ہوتے کہ مجھ پر قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی ۔ قانون کے تحت عمران خان کو اپنی مرضی کی ایف آئی آر درج کرانے کا حق حاصل ہے لیکن جس ملک میں ساری طاقت آرمی چیف کے پاس ہو وہاں قانون پیچھے رہ جاتا ہے ، فوج آگے نکل جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…