ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

لاہور،پولیس مقابلہ میں 3مبینہ دہشتگرد ہلاک،خودجیکٹس برآمد

datetime 1  ستمبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) سانحہ یوحنا آباد سمیت دیگر تخریبی کارروائیوں میں ملوث تین دہشتگرد باٹا پور کے علاقے میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے ،پولیس کے مطابق تینوں دہشتگردوں کو بارودی مواد کی نشاندہی کےلئے لایا گیا تھا جہاں سے بارودی مواد برآمد کر لیا گیا تاہم واپسی پر دہشتگردوں کے ساتھیوں نے پولیس گاڑی پر مبینہ فائرنگ کر دی اور فائرنگ کے تبادلے میں گرفتار دہشتگرد ہلاک جبکہ ایک سب انسپکٹر زخمی ہو گیا ،پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے فرار ہونے والے دہشتگردوں کی تلاش شروع کے علاوہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ۔بتایا گیا ہے کہ سی آئی اے پولیس سانحہ یوحنا آبادسمیت لاہور میں دہشتگردی کی دیگر کارروائیوں میں ملوث تین گرفتار دہشتگردوں حسن پنجابی ، قانون شاہ اور عمران محسود کو بارودی مواد کی نشاندہی کے لئے سرحدی علاقہ باٹا پور لے کر گئی جہاں سے پولیس نے تیار حالت میں خود کش جیکٹ ، چار ہینڈ گرینیڈ سمیت دیگر بارودی مواد برآمد کر لیا تھا ۔پولیس دہشتگردوں کو واپس لے کر آرہی تھی کہ انکے ساتھیوں نے چھڑانے کی کوشش میں پولیس گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے بعد پولیس نے بھی فائرنگ شروع کی جس کے تبادلے میں تینوں دہشتگرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے سب انسپکٹر محمود حیات زخمی ہو گیا جسے طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیاگیا۔ ڈی ایس پی مناواں قیصر حسین کے مطابق تینوں دہشتگردوں نے بارودی مواد کی برآمد گی کرا دی تھی جب انہیں واپس لیجایا جارہا تھاکہ ان کے ساتھیوں نے چھڑانے کے لئے فائرنگ کر دی اور فائرنگ کے تبادلے میں تینوں دہشتگرد ہلاک جبکہ پولیس کا ایک سب انسپکٹر زخمی ہو گیا ۔انہوں نے بتایا کہ تینوں دہشتگردوں کو غیر معمولی سکیورٹی میں نشاندہی کے لئے لایا گیا تھا۔بم ڈسپوزل سکواڈ لاہور کے کمانڈر ریاض احمد شاہ نے بتایا کہ برآمد کی گئی خود کش جیکٹ تیار حالت میں ہے جسے فوری طور پر استعمال میں لایا جا سکتا تھا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ نے اسے ناکارہ بنا دیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ چار ہینڈ گرینیڈ بھی برآمد کئے گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس کے حوالے سے بتایاگیا ہے کہ تینوں ملزمان سانحہ یوحنا آباد کے مرکزی ملزم تھے ۔ میڈیا رپورٹس میں ایس ایس پی سی آئی عمر ورک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دہشتگردوں کو نشاندہی کے بعد واپس لایا جارہا تھاکہ دہشتگردوں کے ساتھیوں نے فائرنگ کر دی جس سے تینوں دہشتگرد ہلاک ہو گئے ۔اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اورفرار ہونے والے دہشتگردوں کی گرفتاری کے لئے علاقے کی ناکہ بندی کر کے انکی تلاش شروع کر دی گئی ہے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ شہید صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے چار اگست کو ایوان وزیر اعلیٰ میں پریس کانفرنس کر کے گرفتار دہشتگردوں کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…