اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

عمران سے پہلے میں نے الیکشن کمیشن ممبران کے استعفوں کی بات کی تھی،نجم سیٹھی

datetime 30  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ)معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے عمران خان کی جانب سے 4 اکتوبر کو الیکشن کمیشن دفتر کے سامنے دھرنے اور ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کے تحریک انصاف کے فیصلے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن پر عمران خان کو بہت اعتماد تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا لیکن جب فیصلہ ان کے حق میں نہ آیا تو انہوں نے سخت ترین احتجاج کیا ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ معاملہ ختم ہوجاتا کیونکہ حکومت کے ساتھ بھی جو معاہدہ ہوا تھا اس میں یہی تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد اس موضوع پر کوئی گفتگو نہیں ہوگی لیکن اس کے باوجود عمران خان لگے رہے ، ایک وقت میں تو عمران خان ان ہی ٹریبونلز کے خلاف تھے جب یہ ٹریبونلز ان کے حق میں فیصلے نہیں دے رہے تھے اور جب ان کے حق میں فیصلے آنے لگے تو خان صاحب بھی ان کے حق میں ہوگئے ۔نجم سیٹھی نے اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے انکشاف کیا کہ عمران خان سے پہلے الیکشن کمیشن ممبران کے استعفوں کی بات میں نے کی تھی ، اس حوالے سے آئینی پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ان ارکان سے استعفے لئے نہیں جاسکتے اور نہ ہی ان کو عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے تاہم یہ اگر خود جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں ۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ یہ بہتر وقت ہے کیونکہ 33رکنی پارلیمانی الیکٹورل ریفارم کمیٹی بن چکی ہے بہتر ہوگا کہ چار نئے چیف الیکشن کمشنرز بھی لگ جائیں ۔عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن ممبران کے استعفے نہ دینے کی صورت میں 4 اکتوبر کو دھرنے کے اعلان اور بعد ازاں یہ خبر سامنے آنے کہ تین ارکان استعفے دینے پر رضا مند ہیں ،پر بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے دھرنے کی دھمکی افسوسناک بات ہے لیکن ان الیکشن کمشنرز کو اپنے ضمیر کی آواز کو سمجھتے ہوئے باعزت انداز میں پہلے ہی استعفے دے دینا چاہئے تھے لیکن ایک آئینی پوزیشن پر بیٹھے لوگوں کا دھمکی پر عہدے چھوڑنا کسی طور پر بھی جمہوریت میں اچھا رواج نہیں ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…