ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

برٹش لائبریری کا افغان طالبان سے متعلق دستاویزات محفوظ کرنے سے انکار

datetime 29  اگست‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک)برطانیہ میں برٹش لائبریری نے دہشت گردی سے متعلق قوانین کے بارے میں تشویش کی وجہ سے طالبان سے تعلق رکھنے والی بہت سی دستاویزات کو محفوظ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔افغان طالبان سے متعلق دستاویزات میں سرکاری اخبار، نقشے اور ریڈیو نشریات شامل ہیں۔تاہم دانشوروں نے برٹش لائبریری کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے یہ دستاویزات افغانستان میں جاری بغاوت کو سمجھنے کا قابلِ قدر ذریعہ ہیں۔لائبریری کا کہنا ہے کہ اسے خوف ہیکہ اگر وہ ان دستاویزات کو محفوظ کرتی ہے تو وہ کہیں دہشت گردی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب نہ ہو جائے۔ لائبریری کے مطابق اسے قانونی طور پر صلاح دی گئی ہے کہ وہ طالبان سے متعلق مواد کو قابلِ رسائی نہ بنائے۔ایلیکس سِٹرک وین لِنشوٹن جو مصنف اور محقق ہیں اور جنھوں نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں مدد کی تھی، کہتے ہیں کہ لائبریری کا فیصلہ ’حیران کن اور مایوس کن ہے۔‘’ان دستاویزات میں بم بنانے کی یا اس قسم کی کوئی ترکیب درج نہیں۔ یہ دستاویزات ہیں جو تاریخ کو سمجھنے میں لوگوں کی مدد کریں گی، خواہ افغان اپنے قریب کے ماضی کو جاننے کی کوشش کر رہے ہوں یا باہر کے لوگ اس تحریک کو سمجھنا چاہتے ہوں۔‘انھوں نے کہا ’کوئی بھی عالم یہ محسوس کرے گا کہ موضوع سے متعلق ابتدائی دستاویزات کو پڑھنا بہت ضروری ہوتا ہے اگر آپ شدت پسند گروہوں کو سمجھنا چاہتے ہوں۔ لیکن برطانوی قانون کے واضح نہ ہونے کے باعث دانشوروں میں اس قسم کے مواد کے بارے میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔‘ڈبلن سٹی یونیورسٹی میں پرفیسر جیمز فٹز جیرلاڈ کہتے ہیں کہ لائبریری کا فیصلہ ’قطعی طور پر بیوقوفی پر مبنی ہے۔‘ انھوں نے حکومت کو یہ کہتے ہوئے موردِ الزام ٹھہرایا کہ دہشت گردی سے متعلق قوانین دانشوروں کو انتہا پسند گروہوں کے بارے میں مطالعہ کرنے میں نروس کر رہے ہیں۔’ہم پہلے ہی اثرات دیکھ رہے ہیں۔ کچھ لیکچرار دہشت گردی کے بارے میں مضامین پڑھانا نہیں چاہتے کیونکہ وہ شک کی زد میں نہیں آنا چاہتے۔‘طالبان سے متعلق دستاویزات کو محفوظ کرنے کا منصوبہ سنہ 2012 میں شروع کیا گیا تھا اور اس میں برٹش لائبریری کے مشاورتی بورڈ کے ارکان شامل تھے۔ دستاویزات کو ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے اور ان کا انگریزی ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔لائبریری کے ایک ترجمان نے بتایا’ اگرچہ ان دستاویزات کی تحقیقی قدر تسلیم کی گئی ہے لیکن فیصلہ کیا گیا کہ اس میں کچھ ایسا مواد ہے جو دہشت گردی کے قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے جو لائبریری کی تحقیق کاروں کواس مواد تک رسائی پہنچانے کی صلاحیت کو محدود کر دے گا۔‘جب برطانیہ میں ہوم ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا گیا تو کہا گیا کہ یہ لائبریری کا اپنا مسئلہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…