جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

این اے 122اور این اے 154پر فیصلہ دینے والے ٹربیونلز کے ججز کے بارے میں بڑا فیصلہ کرلیاگیا

datetime 27  اگست‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)صوبائی الیکشن کمشنر نے تین الیکشن ٹربیونلز کے ججز کو کنٹریکٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو مراسلہ ارسال کردیا ،ان میں این اے 122اور این اے 154پر فیصلہ دینے والے ٹربیونلز کے ججز بھی شامل ہیں ۔ نجی ٹی وی کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن کی طرف سے الیکشن ٹربیونل لاہور کے جج جسٹس (ر) کاظم علی ملک ، الیکشن ٹربیونل فیصل آبادکے جج جسٹس (ر) جاوید رشید محبوبی اور ملتان الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس (ر)رانا زاہد کو کنٹریکٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے او راس حوالے سے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کو مراسلہ بھی ارسال کردیا گیا ہے۔ تینوں الیکشن ٹربیونلز کے ججز کے کنٹریکٹ کی مدت 31اگست کو ختم ہو رہی ہے ۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ٹربیونلز کے ججز کے کنٹریکٹ میں متعدد بار توسیع کی جا چکی ہے اور اب مزید توسیع کی ضرورت نہیں ۔ مذکورہ ٹربیونلز میں زیر سماعت کیسز کو لاہور ہائیکورٹ میں منتقل کیا جائے اور ہائیکورٹ کے معززججز پر مشتمل ٹربیونل تشکیل دے کر ان کیسز کی سماعت کی جائے ۔ الیکشن ٹربیونلز میں این اے118‘128اور پی پی 160کے کیسز زیر سماعت ہیں۔یاد رہے کہ لاہور الیکشن ٹربیونل کے جج جسٹس (ر) کاظم ملک نے این اے122اور پی پی 147جبکہ ملتان ٹربیونل کے جج رانا زاہد نے این اے 154کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مذکورہ حلقوں میں دوبارہ پولنگ کے احکاما ت جاری کئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…