منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

ایٹمی پروگرام میری لاش سے گزرکرہی رول بیک ہوسکتاہے ،جانیئے کس نے کہا

datetime 18  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پنجاب کے وزیرداخلہ شجاع خانزادہ جن کوشہیدکردیاگیا۔انہوں نے واشنگٹن میں بطورملٹری اتاشی بھی خدمات سرانجام دیں اوراس وقت پاک فوج کے سربراہ وحیدکاکٹرتھے جنہوں نے شجاع خانزادہ کے ملٹری اتاشی ہونے کے وقت امریکہ کادورہ کیاتھا۔روزنامہ جنگ کے صحافی شاہین صہبائی کی ایک رپورٹ کے مطابق دورہ امریکہ کے دوران اس وقت کے آرمی چیف وحید کاکٹرنے کہاتھاکہ پاکستان کاایٹمی پروگرام میری لاش سے گزرکرہی رول بیک ہوسکتاہے ۔شجاع خانزادہ کے مطابق جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ اس وقت کے آئی ایس آئی چیف خواجہ ضیاءالدین، جنرل علی قلی خان اور جنرل جہانگیر کرامت کے ساتھ واشنگٹن کا پہلا دورہ کر رہے تھے۔ نے 1999ءمیں اٹک میں اپنی رہائش گاہ سے مجھے میں بتایا یہ شخصیات دورے کیلئے آ رہی تھیں تو پاکستانی کمیونٹی اور پر تاثر تھا کہ وہ بینظیر بھٹو کے کی حیثیت سے آرہے ہیں اور ممکنہ طور پر امریکی حکام کے ساتھ (جوہری پروگرام) رول بیک یا منجمد کرنے کے حوالے سے بات کی جائے گی۔ یہ انٹرویو 2002ء میں ایک ویب سائٹ پر شایع ہوا تھا۔ شجاع خانزادہ نے بتایا تھا کہ جنرل کاکڑ پہنچے تو میں نے انہیں دیکھا۔ جس وقت ان کا طیارہ یہاں لینڈ ہوا تو اس وقت وہ شدید دباﺅ میں نظر آئے۔ وہ پہلی مرتبہ امریکا دورے پر پہنچے تھے کیونکہ انہیں نیا چیف مقرر کیا گیا تھا۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ ان کے اور کے بیچ کیا معاملات سامنے آئیں گے۔ میں نے انہیں مختصر بریفنگ دی۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ یہاں ہیں اور (جوہری پروگرام) رول بیک یا پھر منجمد کرنے کے حوالے سے آپ معاونت کریں گے۔ اس پر وہ حیران ہوئے اور میں نے انہیں اثبات میں کہ جی۔ اس پر جنرل کاکڑ کا جواب تھا کہ ایسا میری موت پر ہی ہو سکتا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ کل سفارت خانے آ رہے ہیں جہاں آپ افسران سے خطاب کریں گے، اور اسی نقطے پر وضاحت بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گا۔ اپنے انٹرویو میں شجاع خانزادہ نے بتایا تھا کہ اگلے دن جنرل کاکڑ سفارت خانے پہنچے جہاں افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر پروگرام میری لاش پر رول بیک یا منجمد ہوگا۔ اس معاملے پر کوئی سوال جواب نہیں ہوگا، ہم اپنے نیوکلیئر پروگرام کو جاری رکھیں گے، اور کسی بات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے –

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…