جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وہ 10با تیں جن پر شا دی شدہ جو ڑے کو ضرور عمل کر نا چا ہیے

datetime 18  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)شادی شدہ زندگی کی ابتداءسب کو ساری عمر یاد رہتی ہے لیکن اگر نئے جوڑے 10باتوں پر عمل کرلیں تو وہ ساری عمر خوش رہیں گے۔
1۔شادی سے قبل اپنے تمام ادھار ختم کردیں اور جب شادی شدہ زندگی کا آغاز ہو تو سر پر کوئی قرض نہ ہوتو بہتر ہے۔اپنے اخراجات کا تخمینہ لگائیں اور اس کے مطابق اپنی سیر اور بچت پلان کریں۔

2۔اپنے ساتھی کو بتائیں کہ وہ آپ کے ساتھ کس طرح پیش آئے تا کہ آپ ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔آپ دونوں کو یہ اندازہ ہوجائے گا کہ کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ پیش آنا ہے اور باقی کی زندگی بھی اچھی گزرے گی۔

3۔اگر غلطی ہوجائے تو اس پر قائم رہنے کی بجائے اس کو تسلیم کریں اور سوچیں کہ ایسا کیوں ہوا اور مستقبل میں کس طرح اس غلطی کو دہرانے سے بچا جاسکتا ہے۔
4۔کوئی بات کہنے سے قبل سوچیں۔بلاوجہ کوئی چیز کہہ دینا یا سوچے سمجھے بنائ بات کرنا ویسے بھی جاہلوں کی نشانی ہے لہذا شادی کے بعد اس بات پر سختی سے عمل کریں کہ آپ نے سوچ سمجھ کر الفاظ کی ادائیگی کرنی ہے۔
5۔یہ مت سوچیں کہ فلمی لوگوں کی طرح آپ کو کوئی بہت دلفریب یا خوبصورت شوہر یا بیوی ملے گی کیونکہ فلموں کا تعلق حقیقی دنیا سے نہیں ہوتا۔آپ کو اس بات پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی ہے کہ آپ کے جیون ساتھی کی سیرت کیسی ہے۔

6۔آپ ایک ٹیم ہیں لہذا اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔کبھی بھی کوئی فیصلہ کرتے وقت اپنی مرضی نہ کریں اور اپنے جیون ساتھی سے مشورہ کریں۔آپ خود سوچیں کہ اگر آپ کا ساتھی کوئی فیصلہ آپ سے پوچھے بنائ کرے تو آپ کو کیسا لگے گا۔

7۔آپ کو جس چیز میں مہارت حاصل ہے اس کا استعمال کریں۔اگر آپ کا ساتھی کھانا پکا سکتا ہے تو آپ کو اس کے کام میں نہیں بولنا چاہیے اور اسی طرح اگر آپ باہر کے کام کرتے ہیں تو اسے آپ کے کاموں میں نکتہ چینی نہیں کرنی چاہیے۔
8۔کبھی بھی فوراًاولاد کی خواہش نہ کریں بلکہ پہلے اچھی طرح اپنے آپ کو اور شادی شدہ زندگی کے فرائض اور ذمے داریوں کو سمجھیں۔
9۔اگر لڑائی ہوجائے تو دورازے اور کھڑکیاں بند کر لینے یا گھر سے فرار ہونے کی بجائے صورتحال کا مقابلہ کریں۔کیونکہ اگر آپ صورتحال سے فرار اختیار کریں گے تو مزید خرابی پیدا ہو گی۔
10۔ایک دوسرے کے حقوق کو پہچانیں اور انہیں پورا کرنے کی کوشش کریں۔پہلے جو آپ کی ذمہ داری ہے اسے پورا کریں پھر جیون ساتھی سے امید رکھیں۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…