جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

جب موت میرے بالکل قریب تھی

datetime 13  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پرانے وقتوں کی بات ہے جب ہم سنتے تھے کہ بچوں کی پیدائش فصلوں میں ہو گئی ،کھیتوں میں یا کوئی اور کام کرتے وقت بچے پیدا ہو گئے جن پر آج کے دور میں یقین ذرا مشکل سے ہی آتا ہے مگر اسی طرح کا واقعہ شمالی کیلیفورنیا کے ایک جنگل میں پیش آیا جہاں ایک خاتون نے بچے کی پیدائش بالکل اکیلے کر ڈالی۔ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اورووائل (کیلیفورنیا) کی 35 سالہ امبر پینگبورن اپنے والدین کے گھر جاتے ہوئے جلدی میں شارٹ کٹ اختیار کرنے پر جنگل میں رستہ بھول گئیں اور بے حد تلاش کرنے پر بھی رستہ نہ مل سکا ۔ امبر نے ٹی وی چینل کوانٹر ویو دیتے ہوئے بتایاکہ میرے پاس اور کوئی چارا نہیں تھا کہ میں اپنے بچے کی پیدائش کہیں اور کر سکوں،میں اس جنگل میں میں تنہا تھی اور میرے پاس کھانے کے لیے صرف 4 سیب اور تھوڑا سا پانی تھا ۔ بچی کی پیدائش کے بعد امبر کا کہنا تھا کہ ہم دونوں کو مچھر اور مکھیوں نے تنگ کرنا شروع کر دیا جب کہ میری ہر ممکن کوشش تھی کہ میں اپنی بچی کو ان کے ڈنگوں سے جہاں تک ہو سکے بچا سکوں۔ ان کا کہنا تھا کہ شروع میں مَیں پُر عزم تھی کہ میں اپنی بچی کو بچا لوں گی ،میں اپنی بچی کو کچھ نہیں ہونے دوں گی مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا مجھے فکراور اندیشے لاحق ہو تے گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ میری فکر بڑھتی گئی اور تیسرے روز میں بالکل مایوس ہو گئی کہ اب میرا اور میری بچی کا بچنا مشکل ہے اور میں کبھی یہاں سے نکل نہیں پاﺅں گی اور تب میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور میں نے مدد کی خاطر بلانے کے لیے آگ جلا لی جو دیکھتے ہی دیکھتے میرے قابو سے باہر ہو گئی مگر مدد کی یہ ترکیب کام آگئی اور ہمیں تلاش کر لیا گیا ۔ امبر کے مطابق مجھے اس وقت سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں خوشی کی وجہ سے رو بھی رہی تھی اور ہنس بھی رہی تھی کہ آخر مجھے بچا لیا گیا ۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ہفتے کے روز جنگل میں آگ دکھنے پر ہم نے وہاں فائر برگیڈ اور ہیلی کاپٹر بھیجا جس نے خاتون اور اسکی بچی کو تلاش کیااور وہاں سے اسپتال منتقل کیا۔امبر کا کہنا تھاکہ میں انتہائی مایوس ہو گئی تھی مگر میں خدا کی شکر گزار ہوں کہ اس تنہائی اور کھانے کے ناکافی کے سامان کے باوجود میں اور میری بچی مریسا زندہ رہے ،خدا نے ہمیں زندہ رکھا ۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…