منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے منافع خور مافیا کی چاندی، ازخود نرخ بڑھا دیئے

datetime 20  فروری‬‮  2022 |

کراچی(این این آئی)پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتے ہی مختلف اشیا کی قیمتیں بڑھا دی گئیں، مہنگے داموں اشیا کی فروخت سے غریب و متوسط طبقہ کیلئے دو وقت کے کھانے کا انتظام بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیا، بڑھتی مہنگائی سے عوام ڈپریشن کا شکار ہو گئے۔پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ہر شے پر اثرانداز ہورہا ہے، سبزی اور پھلوں

کی قیمتوں میں 30 سے 50 روپے فی کلو تک اوسط اضافہ کردیا گیا ہے۔ 50 سے 60 روپے کلو بکنے والے ٹماٹر کی قیمت 150 سے 200روپے تک پہنچ گئی ہے۔ادرک 300 اور لہسن400روپے فی کلو قیمت پر فروخت ہورہے ہیں، دالوں کی قیمت بھی 5 سے 15روپے تک بڑھا دی گئی۔ مسور کی دال 210 سے بڑھ کر 220 روپے، مونگ 260 روپے سے بڑھ کر 280 روپے اور دال چنا 210 روپے کلو قیمت پر فروخت ہورہی ہے۔چینی کی ہول سیل قیمت تین سے پانچ روپے اضافے 85 روپے اور ریٹیل میں 93 سے 95 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ چکن کی قیمت 280 سے بڑھ کر 350روپے تک ہو گئی۔بکرے اور گائے کا گوشت سرکاری قیمت کے برعکس پہلے ہی دگنی قیمت پر فروخت ہورہا ہے۔ فی لیٹر دودھ 120 سرکاری قیمت کے برعکس 140روپے میں بک رہا ہے۔ قیمت مزید بڑھانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ٹیٹرا پیک دودھ کی قیمت دس روپے اضافے سے 170روپے لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ گھی اور تیل 380 سے 440

روپے فی کلو قیمت پر بیچا جارہا ہے جبکہ فی کلو قیمت میں 80 روپے تک مزید اضافے کا خدشہ ہے۔فلور ملز کی جانب سے فی کلو آٹے کی قیمت میں 2 روپے اضافہ کئے جانے کا امکان ہے۔ چائے کی پتی اور دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ مہنگے داموں پھلوں کی خریداری غریب و متوسط طبقہ کی دسترس سے باہر ہوگئی ہے۔پٹرولیم منصوعات

کی قیمت میں اضافے اور انتظامیہ کی نا اہلی و مجرمانہ غفلت کے باعث مفاد پرست عناصر کی لوٹ مار کا موقع مل گیا ہے، سرکار کی رٹ نہ ہونے کے باعث ہول سیل مارکیٹوں ، مرکزی بازاروں ، سبزی و فروٹ منڈی میں اشیا کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے اور منافع خور مافیا کی من مانیا عروج پر پہنچ گئی ہیں۔پرائس کنٹرول اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہ ہونے کے باعث مرکزی بازاروں اور مارکیٹوں میں انتظامیہ بشمول کمشنر کراچی ، ڈپٹی کمشنرز ، اسسٹنٹ کمشنرز سمیت ضلعی انتظامیہ گرانفروشی سے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…