اسلام آباد(نیوزڈیسک)طالبان تحریک کے اندر نئی قیادت سے متعلق اختلافات ختم کرنے کے لیے تحریک کی علما کونسل سرگرم ہے اور نئے امیر ملا اختر منصور کے مخالف دھڑے اور ملا محمد عمر کا خاندان پرامید ہے کہ کونسل کل تک کسی فیصلے پر پہنچ جائے گی۔
اس امید کا اظہار جمعے کو ملا محمد عمر کے خاندان اور ملا اختر منصور کے مخالف دھڑے کے ترجمان عبدالمنان نیازی نے بی بی سی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔متوازی سیاسی ڈھانچہ تسلیم نہیں
عبدالمنان نیازی نے بتایا کہ افغانستان کے بڑے علما پر مشتمل کونسل تین چار دن سے مشاورت میں مصروف ہے۔’کل انھوں نے ہمارے دو نمائندوں ملا عبدالرسول اور ملا عبدالرزاق اخوند سے ملاقات کی اور اپنے اختلاف کا سبب بتایا ہے کہ کن عوامل کی وجہ سے انھیں ان تعیناتیوں سے اختلاف ہے۔ انھوں نے علما سے کہا کہ آپ اس قوم کے جید دینی رہنما ہیں اس لیے یہ مسئلہ ہم آپ کے سامنے لائے ہیں۔‘
ہوسکتا ہے افغان علما آج (جمعے کو) ملا اختر منصور کے لوگوں سے مشاورت کر رہے ہوں اور کل واپس لوٹیں۔ امید ہے کہ ملا اختر منصور بھی ان کو کسی بھی فیصلے کا اختیار دے دیں گے جس کے بعد علما اپنا فیصلہ سنا دیں گے۔عبدالمنان نیازیترجمان کا کہنا تھا کہ ان نمائندوں نے اس کونسل کو ان کی جگہ فیصلے کا اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی ایسی شخصیت کو مقرر کریں جو اس نظام کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہو۔عبدالمنان نے بتایا کہ ہوسکتا ہے یہ علما آج (جمعے کو) ملا اختر منصور کے لوگوں سے مشاورت کر رہے ہوں اور کل واپس لوٹیں گے۔ ’یہ افغانستان کے مشہور علما ہیں۔ امید ہے کہ ملا اختر منصور بھی ان کو کسی بھی فیصلے کا اختیار دے دیں گے جس کے بعد علما اپنا فیصلہ سنا دیں گے۔‘ایک سوال کے جواب میں کہ وہ کتنے پرامید ہیں کہ علما ان کے حق میں فیصلے دیتے ہوئے ملا اختر منصور کو ہٹا دیں گے؟ انھوں نے کہا کہ یہ بات تو اِن علما نے پہلے ہی انھیں بتا دی تھی کہ آپ کا انتخاب غیرشرعی طریقے سے ہوا ہے، اس میں علما شامل نہیں تھے اور اس میں طالبان شوری کے لوگ موجود نہیں تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’اس قیادت یا عہدے کے فرائض کی انجام دہی کے لیے جو شرائط ہیں آپ ان پر پورا نہیں اترتے ہیں۔ یہ قوم آپ کے تحت متحد ہونے کو تیا نہیں ہے۔‘ان کا کہنا کہ مسئلہ تقریباً حل ہو گیا ہے اور جلد اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔خیال رہے کہ طالبان رہنما ملا محمد عمر کی ہلاکت کے بعد تحریک کی قیادت کے معاملے پر پیدا ہونے والے اختلافات پر تبصرہ کرتے ہوئے افغان حکومت نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ملک میں کسی متوازی سیاسی ڈھانچے کو قبول نہیں کرے گی
افغان طالبان میں اختلافات کے خاتمے کی کوششیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
تنخواہوں کے حوالے سے سرکاری ملازمین کیلئے ایک اور خوشخبری
-
پاکستان کا المیہ
-
ایرانی ریال کے نئے نرخ سامنے آ گئے
-
علی خامنہ ای کے جنازے پر اسرار نقاب پوش کون تھا؟ شناخت ظاہر
-
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
-
اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس، ثاقب چدھڑ بارے عدالت کا اہم فیصلہ آگیا
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
عمران خان اور جمائمہ کا تاریخی لندن والا گھر فروخت کے لیے پیش، قیمت جان کر حیران رہ جائیں گے
-
تولدے گیبریماریم کو پی آئی اے کی قیادت سونپنے کا فیصلہ
-
امارات کے نائب صدر 77 ویں سالگرہ منانے اسکاٹ لینڈ میں اپنی دلکش اراضی میں پہنچ گئے
-
وزیراعظم شہباز شریف کے آموں کے تحفے پر ہنگری کے وزیراعظم کا دلچسپ پیغام
-
پاکستانیوں کے لیے خوشخبری! سعودی عرب نے نیا پیکیج ویزا متعارف کرا دیا
-
نئی آٹو پالیسی آخری مراحل میں، کیا گاڑیاں سستی ہوں گی؟
-
100 روپے کی دہی منگوانے پر شوہر کا بیوی پر تشدد، گولی مار دی



















































