اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

فوج کو پورے پاکستان کی حفاظت کرنے کا کہا گیا ہے سپریم کورٹ نے عسکری پارک سے متعلق تہلکہ خیز حکم جاری کردیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)سپریم کورٹ نے کراچی میں پرانی سبزی منڈی پر 17 ایکڑ پرمحیط عسکری پارک واپس بلدیہ عظمی کراچی کو دینے کا حکم دیا ہے۔پیرکوسپریم کورٹ رجسٹری میں عسکری پارک میں کمرشل سرگرمیوں اور شادی ہال بنانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت میں کور فائیو کی جانب سے لیفٹننٹ کرنل زبیر رپورٹ پیش کردی گئی جس میں بتایا گیا کہ عسکری پارک میں شادی

ہالز کو بند کردیا گیا ہے۔عسکری پارک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دفاعی ادارے کو معاہدے کے تحت پارک دیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارک کا فوج سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ کو پارک اس لیے دیا گیا تھا تا کہ کوئی قبضہ نہ ہو۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فوج کو پورے پاکستان کی حفاظت کرنے کا کہا گیا ہے۔ کیا عسکری پارک کمرشل سرگرمیوں کیلئے دیا گیا تھا؟۔عسکری پارک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پارک سے کمرشل سرگرمیاں ختم کردی ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ابھی آپ سے حساب مانگ لیں گے تو آپ کیا کریں گے ؟۔ عسکری پارک سے ابھی تک کتنا پیسہ کمایا ہے؟۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ دیکھیں آرمی کو تنازعات سے دور رکھیں ،پارک بلدیہ عظمی کراچی کی ملکیت ہے،واپس کیا جائے۔سپریم کورٹ نے بلدیہ عظمی کراچی (کے ایم سی)کو پارک بحال کرکے شہریوں کیلئے کھولنے کی ہدایت کی۔عدالت نے عسکری پارک سے متعلق ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی سے استفسار کیا کہ جی ایڈمنسٹریٹر صاحب بتائیں، اس پر

ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ رپورٹ فائل کردی گئی ہے، 2005 میں ایگریمنٹ ہوا تھا،وکیل دفاع نے عدالت میں کہاکہ یہ 99 سال کا ایگریمنٹ ہوا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پارک آپ کو اس لئے دیا تھا کوئی اور قبضہ نہ کرلے، پاکستان کی حفاظت کا کہا تھا، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ملک کیلئے آپ لوگ جانیں بھی دے رہے ہیں ہم قدر کرتے ہیں۔چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے

کہا کہ سیکریٹری دفاع نے جو رپورٹ واپس لی وہ آپ دوبارہ پیش کر رہے ہیں، وہاں جھولے چل رہے ہیں، بچے گر کر مر رہے ہیں، کیسے جھولے لگائے ہیں وہاں؟ آپ نے خود تسلیم کیا شادی ہال چل رہا تھا، آپ کے ہوتے ہوئے 38 دکانیں بنی ہوئی ہیں، وکیل دفاع نے کہا کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لیفٹیننٹ کرنل زبیر کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، رپورٹ میں بتایا

گیا کہ عسکری پارک کی زمین پر بنائی گئی دکانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی پارک کا انتظام سنبھالیں اور پارک عوام کیلئے استعمال کیا جائے، عوام سے اس سے متعلق کوئی چارجز وصول نہ کئے جائیں،پارک کی زمین پر شادی ہال کی عمارت بھی کے ایم سی ختم کرائے، پارک کی زمین پر بنائی گئی دکانیں بھی ختم کی جائیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ دو ہفتوں میں عسکری پارک کے ایم سی کے حوالے کیا جائے، جھولے وغیرہ کے ایم سی اپنے لگائے، ان کے واپس کردیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…