جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

لاہور کی عدالت شہباز گل کو ڈھونڈ رہی ہے ،شہزاد اکبر بھی غائب ہو گئے ہیں، عطا اللہ تارڑ

datetime 30  اکتوبر‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تو عدالتوں سے سر خرو کیا ہے لیکن اب حکمرانوں کی باری آنے والی ہے،شہبازشریف اور حمزہ شہباز پر جھوٹے کیسز بنائے گئے ،ایف آئی اے ایک ایک سال سے انویسٹی گیشن مکمل نہیں کر سکی،لاہور کی عدالت شہباز گل کو

ڈھونڈ رہی ہے جبکہ شہزاد اکبر بھی غائب ہو گئے ہیں۔شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بینکنگ جرائم کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکمرانوں کے جھوٹ کی حقیقت عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے،یہ آج تک ایک الزام ثابت نہیں کر سکے ۔ ایک باجی بد زبان ہوا کرتی تھیں لیکن آج ان کا کوئی نام و نشان نہیں ہے ، یہی حال فیاض الحسن چوہان کا بھی ہے ، ڈاکٹر شہباز گل صاحب کو عدالت ڈھونڈ رہی ہے ، ان کے تو وکیل بھی پیش نہیں ہوتے ۔ شہباز گل کو صاحب کہنا لفظ صاحب کی بھی توہین ہے ۔ انہوں نے صرف نواز شریف اور شہباز شریف کے بغض میں ترک کمپنی پر الزام لگایا گیا ، یہ کہا گیا کہ ترک کمپنی البیراک نے رشوت دے کر ٹھیکہ حاصل کیا اور اس میں سلیمان شہباز کا جھوٹا نام لیا گیا ۔ ترکی اور اس کی عوام نے ہر کڑے وقت میں پاکستان کا اور اسی طرح پاکستان اور اس کی عوام نے کڑے وقت میں ترکی کا ساتھ دیا ہے ، ترکی ہمارا برادر ملک ہے لیکن حکمران نواز شریف اور شہباز شریف کے بغض میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہمارے کس ملک سے کیا تعلقات ہیں ۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ شہبازگل نے پاک ترک کمپنی پر جھوٹا بیان دیا تھا اور اب ہتک عزت کا دعوی دائر ہوا تو شہباز گل نظر نہیں آ رہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…