منگل‬‮ ، 14 جولائی‬‮ 2026 

برطانیہ نے موٹی خواتین سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرلیا

datetime 1  اگست‬‮  2015 |

لندن (نیوزڈیسک )برطانوی ادارہ نائس نے موٹاپے سے نمٹنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کی ہے جس کے تحت خواتین پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کیونکہ موٹی خواتین سے یہ موٹاپا بچوں میں بھی منتقل ہوتا ہے اور موٹاپے کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔نائس نے اس سلسلے میں موٹی ماں کو دبلا بنانے کیلئے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ وہ خواتین جنہیں زیادہ موٹا تصور کیا گیا ، انہیں ماں بننے کے بعد چھ ہفتوں کے آرام کے بعد سخت قسم کے ڈائیٹنگ اور ورزشی منصوبے فراہم کئے جائیں گے جس کے تحت انہیں اپنے وزن میں کمی کیلئے ہفتہ وار اہداف حاصل کرنا ہوں گے۔یہ پروگرام ان تمام خواتین کیلئے ہوگا جن کا بی ایم آئی 30سے زیادہ پایا جائے گا۔اس پروگرام کا آغاز پیدائش کے چھ ہفتے بعد شیڈول کے تحت ہونے والے ہفتہ وار چیک اپ میں ہوگا۔ اس موقع پر اگر ان کا وزن مقررہ حد سے زیادہ پایا گیا تو ان کیلئے مشکل وقت شروع ہوجائے گا۔بارہ ہفتوں کے وزن گھٹا پروگرام میں ان کی حرکت قلب اور بلڈ پریشر کی کیفیت پر بھی نگاہ رکھی جائے گی۔واضح رہے کہ یورپ بھر میں برطانیہ موٹاپے کے لحاظ سے بدترین شرح کا حامل ملک ہے ۔تقریبا ایک چوتھائی بالغ افراد اور گیارہ برس کے بچوں میں ہر پانچواں بچہ موٹاپے کا شکار ہے جس کی وجہ سے ان افراد کی صحت کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ رواں ماہ ہی این ایچ ایس نے والدین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو سوڈامشروبات دینا بند کردیں۔یہی نہیں بلکہ ماں کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کی گئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ حاملہ خواتین کی غذا میں پانچواں حصہ پھل اور سبزیوں کا شامل کروائیں اور ہفتے میں صرف ایک بار تلی ہوئی مچھلی کھانے کا مشورہ دیں۔نوبت اس حد کو پہنچ چکی ہے کہ دندان سازوں کی دوکان پر آنے والے مریضوں کو واپس لوٹانا پڑ رہا ہے کیونکہ وہ دانتوں کے چیک اپ کیلئے مخصوص کرسی میں پورے نہیں سماتے ہیں۔ان افراد کی جانب سے خطوط میں شکایت بھی کی گئی ہے کہ ان کا علاج محض اس خوف کے تحت نہیں کیا گیا کہ کہیں وہ ساڑھے سات ہزار پانڈ مالیت کی کرسی توڑ نہ دیں۔حالانکہ ماہرین کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں بیس سٹون سے زائد وزن کے حامل افراد کی دانتوں کی سرجری نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس طرح ان کی زندگی اور صحت کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…