اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ملک میں 1073افرادکیلئے ایک ڈاکٹر،اسپتالوں میں1593کیلئےایک بیڈ

datetime 31  جولائی  2015 |
doctor talking to her male patient at office

لاہور(نیوزڈیسک) ملک میں 1073افراد کیلئے ایک ڈاکٹر جبکہ اسپتالوں میں 1593افراد کیلئے ایک بیڈ ہے، پولیو ، تپدق اور 5سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں پاکستان کی صورتحال مایوس کن ہے۔ صحت کا شعبہ سماجی حوالے سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے جو ہر شہری کا بنیادی حق ہےتاہم ملک میں یہ شعبہ ہمیشہ انحطاط کاہی شکار رہا ہے۔ نا تو اس شعبے کے لئے کوئی خاطر خواہ بجٹ رکھا جاتا رہا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی عملی ترقیاتی اقدامات کئے گئے ہیں.معروف صحافی ریاض الحق کی ایک رپورٹ کے مطابق اندازہ اس امر سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ ملکی 19کروڑ کی آبادی کے لئے صرف 1142 ہسپتال ہیں جبکہ 5499 ڈسپنسریاں، 5438 صحت کے بنیادی مراکز اور 671 زچہ وبچہ کے مراکز ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک ہی سال میں ملک کی آبادی میں 50 لاکھ کے قریب اضافہ ہوا جبکہ اس دوران 29 نئے ہسپتال اور 25 ڈسپنریوں کا اضافہ ہو سکا۔ دوسری جانب اسی دوران 133 صحت کے بنیادی مراکز اور 16 زچہ وبچہ کے مراکز کم ہوگئے۔ صحت کی بنیادی سہولتوں کے حوالے سے جنگ ڈیولپمنٹ رپورٹنگ سیل نے مختلف ذرائع سے جو اعدادوشمار حاصل کئے ہیں اس کے مطابق 2014ء کے دوران ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد میں 4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ نرسوں کی تعداد میں 5 اور ڈینٹسٹ کی تعداد میں 10 فیصد اضافہ ہوا ۔ملک میں 2013 کے دوران ڈاکٹروں کی تعداد 1 لاکھ 67 ہزار 259 تھی جو2014میں بڑھ کر 1 لاکھ 75 ہزار 223 ہو گئی جبکہ اسی دوران نر سوں کی تعداد86183سے بڑھ کر 90276 اور ڈینٹسٹ کی تعداد 13716سے بڑھ کر 15106ہو گئی ۔ وفاقی ادارہ برائے شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اوسطاً 1073 افراد کے لئے ایک ڈاکٹر ہے جبکہ 12447 افراد کے لئے ایک ڈینٹسٹ ہے اور 1593 افراد کے لئے ہسپتالوں میں ایک بیڈ ہے ۔ وزارت پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں گزشتہ برس ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے بیڈز کی کمی کو پورا کرنے کے لئے 5 ہزار کا ہدف رکھا گیا تھا جو پورا نہ ہو سکا اور 5 ہزار کی بجائے صرف 3900بیڈز کا اضافہ ہو سکا۔ ملک میں صحت کی سہولتوں کی کمی کے باعث مختلف بیماریاں جو عالمی سطع پر خاتمے کے قریب ہیں دوبارہ پھیلنا شروع ہو گئی ہیں۔ دنیا میں پولیو کا مرض ختم ہونے کے قریب ہے تاہم پاکستان بدستور ان 3 ممالک میں سرفہرست ہے( پاکستان، افغانستان اور نائیجریا ) جواس مرض سے چھٹکارا حاصل نہ کر سکے ۔ عالمی ادارے صحت کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں رواں سال کے دوران اب تک 22 کیسز تشخیص ہو چکے ہیں اور قبائلی علاقہ جات میں 6 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان جہاں دیگر صحت کی مشکلات کا شکار ہے وہیں تپدق سے متاثرہ 22 ممالک کی فہرست میں پاکستان بدستور چھٹے نمبر پر ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق ملک میں صحت کے مسائل کا اندازہ اس امرسے لگایا جا سکتا ہے کے نومولود ہر ہزار بچوں میں سے 69 جبکہ 5 سال سے کم عمر کے ہرہزار بچوں میں سے 85 وفات پا جاتے ہیں اور افسوناک امر یہ ہے کہ ایسے ممالک میں پاکستان جنوبی ایشیاء میں سرفہرست ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملک میں صحت کے ترقیاتی امور کے لئے صحت کے کل بجٹ میں سے ایک تہائی بھی استعمال نہیں کیا جا تا جس کے باعث سہولتوں کی کمی کو پورا نہیں کیا جا رہا اور تقریبا 75سے 80 فیصد بجٹ رواں اخراجات پر ہی خرچ کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…