بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

لڑکیوں کی ریڑھ کی ہڈی کمزور ہوتی ہے، انکشاف

datetime 30  جولائی  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک) سائنسدانوں کی ایک تحقیق کے دوران مردوخواتین کی ریڑھ کی ہڈیوں کے حوالہ سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جس سے قدرت کی تخلیق کا اندازہ ہوتاہے، تحقیق کے مطابق لڑکے اور لڑکیوں کی ریڑھ کی ہڈی میں پیدائش کے وقت ہی واضح فرق موجود ہوتا ہے اور لڑکیوں کی ریڑھ کی ہڈی کمزور ہوتی ہے تاہم عمودی تراشہ کی کم جسامت ہی دراصل عورتوں کو حمل کے دوران بھاری بوجھ برداشت کرنے کے قابل بناتی ہے۔لاس اینجلس کے ایک بچوں کے اسپتال سے وابستہ طبی ماہرین کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں کمزور ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔بچوں کے امراض کے ڈاکٹر اور تحقیق کے مصنف وی سینٹے گلسانز نے کہا کہ انسان واحد مخلوق ہے، جس میں یہ فرق دیکھا گیا ہے، اور یہ جنسوں کے درمیان پیدائش کے وقت پائے جانے والے اہم اختلافات میں سے ایک ہے۔دی سابان ریسرچ انسٹی ٹیوٹ’ کے تحقیق دانوں کے مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ ریڑھ کی عمودی تراشے کی جسامت جس سے ریڑھ کی ہڈی کی طاقت معلوم کی جاسکتی ہے، نوزائیدہ لڑکیوں میں نوزائیدہ لڑکوں کے مقابلے میں اوسطا 11 فیصد کم تھی، اور یہ فرق پیدائش کے وقت کے بچوں کے کوائف جیسے وزن اورجسم کی لمبائی سے آزاد تھا۔یہ نتائج ‘جرنل آف پیڈیاٹرک’ نامی جریدے میں شائع ہوئے ہیں،جس میں محققین کو ریڑھ کی ہڈی کے عمودی ڈھانچے اور عورتوں میں ہڈیوں کی صحت کے درمیان تعلق کا بھی پتا چلا ہے۔ماہرین کے خیال میں ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کا یہ اختلاف اصل میں عورتوں کو ریڑھ کی ہڈی کے ابنارمل خم ‘اسکولی اوسس’ اور ہڈیوں کی تحلیل کی بیماری’ اوسٹیو پروسس’ کے لیے کمزور بناتاہے۔مطالعہ 70 صحت مند نوزائیدہ بچوں پر مشتمل تھا جس میں ماہرین نے ایم آر آئی اسکیننگ کی مدد سے35 نوزائیدہ لڑکے اور 35 نوزائیدہ لڑکیاں کا معائنہ کیا اور ان کے پیدائشی وزن، جسم کی لمبائی اور کمر کی پیمائش کی، جس میں دونوں جنسوں کے درمیان نمایاں فرق نہیں تھا۔پروفیسر گلسانز نے کہا کہ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ عورتیں کی ہڈیاں، مردوں کی نسبت چھوٹی ہوتی ہیں، لیکن ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ ہڈیوں کی جسامت کا یہ فرق کب شروع ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالعے نے نئے ثبوت فراہم کئے ہیں،جو بتاتا ہے کہ یہ فرق ماں کے پیٹ میں بچہ کی افزائش کے عمل کے دوران شروع ہوتا ہے۔محققین کو لگتا ہے کہ یہ فرق ارتقائی ہے، یعنی عمودی تراشہ کی کم جسامت ہی دراصل عورتوں کو حمل کے دوران بھاری بوجھ برداشت کرنے کے قابل بناتی ہے۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اپنی پوری زندگی کے دوران عورتوں میں مردوں کے مقابلے میں ہڈیوں کا بڑھنا کم ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ان میں ہڈیوں کے فریکچر کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…