بدھ‬‮ ، 14 اکتوبر‬‮ 2026 

اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کیلئے حکومت کا زبردست فیصلہ

datetime 26  ستمبر‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)حکومت نے اشیائے ضروریات بشمول چینی، آٹا، دالوں کی قیمتوں میں جزوی طور پر کمی لانے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت کا فیصلہ کرلیا ہے ایک انٹرویومیں شوکت ترین نے کہا کہ مارکیٹ میں 3 طریقوں میں مداخلت کی جائے گی، جس میں یوٹیلیٹی اسٹورز، اوپن مارکیٹ میں مداخلت اور معاشرے کے کمزور طبقے کو ہدف بنا کر سبسڈی دینا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک کروڑ 25 لاکھ گھرانوں کو سبسڈی دینے کے ہدف کے پیش نظر ایک کھرب روپے سے زائد کی رقم مختص کی ہے۔وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے سپورٹ پیکج کی منظوری دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی پہلے ہی پیکج منظور کرچکی ہے۔مذکورہ پیکج کے پیش نظر حکومت نے خوردنی تیل اور گھی پر سیلز ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ صارفین کو فوری طور پر ریلیف فراہم کیا جاسکے۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ ہم نے تخمینہ لگایا ہے کہ سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی سے خودرنی تیل یا گھی کی قیمت میں 50 روپے فی لیٹر تک کی کمی آئے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اوپن مارکیٹ میں معاشرے کے تمام طبقات کے فوائد دستیاب ہوں۔ادھر پاکستان وناسپی مینوفیکچرر ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالوحید نے بتایا کہ ایسوسی ایشن سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کے فوائد فوری طور پر صارفین کو منتقل کرے گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اب تک ایسوسی ایشن کے ساتھ تجاویز شیئر نہیں کی ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت آٹے کے 20 کلو گرام کے تھیلے کی قیمت میں 100 سے 150 روپے کمی کے لیے بھی مارکیٹ میں مداخلت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں یہ سہولت تمام صارفین کے لیے دستیاب ہوگی۔

شوکت ترین نے کہا کہ دوسرے منصوبے کے تحت حکومت ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر موجود اشیا خور و نوش پر سبسڈی جاری رکھے گی، جس میں چینی، گھی، تیل، دالوں اور آٹے پر سبسڈی برقرار رکھی جائے گی۔حکومت ایک کروڑ 25 لاکھ گھرانوں کا ڈیٹا ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز کے الیکٹرانک سسٹم میں داخل کرچکی

ہے، یوں معاشرے کے کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے انگلیوں کے نشانات یوٹیلیٹی اسٹور کے کاؤنٹر پر استعمال کر کے مقررہ سبسڈی حاصل کرسکیں گے۔شوکت ترین نے کہا کہ حکومت نے چینی، آٹا، دالوں، اور گھی سمیت اشیا ضروریات پر ایک کروڑ 25 لاکھ خاندانوں کو سبسڈی فراہم کرنے کے لیے ایک کھرب سے زائد رقم خرچ کرنے کا ہدف بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اشیائے خورونوش اور بجلی کی قیمتیں نئی

بلندیوں پر پہنچی ہیں۔انہوں نے کہاکہ خام تیل کی قیمت گزشتہ سال کے 40 ڈالر کے مقابلے میں 78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ریٹیلرز کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے سوال پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ایک ٹیکس آرڈیننس جاری کیا گیا ہے تاکہ غیر رجسٹر شدہ ریٹیلرز کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جاسکے تاہم ریٹیلرز نے انہیں ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے حکومتی اقدامات پر ہڑتال پر جانے کی دھمکی دی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…