جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

عجائب گھر کے محافظ نے 140فن پارے بیچ کر نقلی فن پارے آویزاں کر دیئے

datetime 29  جولائی  2015 |

بیجنگ(نیوزڈیسک ) چین میں ایک شہری نے ملک کی ایک جامعہ کے عجائب گھر سے 140 سے زیادہ فن پاروں کی چوری اور ان کی جگہ نقلی فن پارے آویزاں کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ملک کے جنوبی صوبے گوانگ زو کی فائن آرٹ اکیڈمی کے مہتمم 57 سالہ ژیاو ژین نے اکیڈیمی میں موجود 125 فن پاروں کو 60 لاکھ ڈالر سے زائد رقم میں فروخت کیا ہے۔انہوں نے فن پارے چوری کر کے بیچنے کا اعتراف تو کیا لیکن اپنے دفاع میں عدالت میں دیے گئے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آرٹ اکیڈمی کے سٹور روم میں پہلے سے ہی جعلی فن پارے موجود تھے،ژیاو ژین کو ان کے جرم پر ابھی سزا نہیں سنائی گئی۔ان کے پاس یونیورسٹی کے سٹور روم کی چابی تھی جہاں انہوں نے 2004 کے بعد دو سال تک معروف فنکاروں کی پینٹنگز کی نقل تیار کیں۔ژیاو ژین نے عدالت میں اپنے بیان میں بتایا ہے کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ فن پاروں کی جو نقول انہوں نے تیار کی تھیں وہ بھی کسی نے چوری کر کے ان کی جگہ اور نقول رکھ دیں۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح یونیورسٹی کی لائبریری سے طالب علم اور اساتذہ کتابیں لے سکتے ہیں اسی طرح ان کی رسائی سٹور روم میں موجود پینٹنگز تک بھی ہوتی ہے۔انہوں نے 2004 سے لے کر 2011 کے درمیان 125 فن پاروں کو فروخت کیا اور حاصل شدہ رقم سے مزید پینٹنگز خریدیں اور جائیداد بھی بنائی۔وکیلِ استغاثہ کے مطابق ژیاو ژین نے مزید 18 پینٹنگز چوری کیں جن کی قیمت 70 لاکھ یوان کے برابر تھیں،ان چوری شدہ فن پاروں میں 17ویں صدی کے معروف پینٹر اور خطاط زوا کے فن پارے بھی موجود تھے۔ژیاو ژین نے 2010 میں اس وقت یونیورسٹی چھوڑ دی تھی جب ان پر کرپشن کے الزامات ثابت ہوئے تھے،انہوں نے اپنے اس اقدم پر معافی مانگی ہے تاہم انہوں نے اس معاملے سے متعلق کچھ تفصیلات وکیلِ استغاثہ تک پہنچائی ہیں۔خیال رہے کہ2012 میں ژنہوا نیوز ایجنسی نے بھی فن پاروں کی جعلی نقول بنائے جانے کے مسئلے کو اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ یہ کام ملک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…