ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

شادی کے بعد مرد حضرات کا خود کشی کی جانب قدم اٹھانے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا

datetime 26  جولائی  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک )ازدواجی زندگی میں مشکلات کا سامنا نہ کر پانے پر مرد حضرات کا خود کشی کی جانب قدم اٹھانے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شادی شدہ مردوں میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد شادی شدہ عورتوں کے خود سوزی کرنے کی تعداد کی نسبت دو گنی ہے۔ حالیہ شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شادی کے بعد طلاق ہونے یا اپنے ہمسفر کے دنیا چھوڑ جانے کے بعد مرد زیادہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور زندگی کی مشکلات سے گھبرا کر عورتوں کی نسبت جلد ہی خود سوزی جیسا بڑاقدم اٹھا لیتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق سال 2014ءمیں تقریباً60,000 مرد حضرات نے خودسوزی کی جبکہ اس کے مقابلے میں خواتین کی تعداد صرف 27,000ہے۔ مزید براں ان میں 550افراد ایسے تھے جنہوں نے طلاق ہونے کے بعد خودکشی کی جبکہ طلاق یافتہ خواتین کے خودکشی کرنے کی تعداد410ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ مردوں میں خود کشی کرنے والوں میں سے66فیصد تعداد شادی شدہ افراد کی تھی جبکہ خود سوزی کرنے والے غیر شادی شدہ افراد کی تعداد21فیصد ہے۔ ان اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شادی شدہ زندگی کے بعد خود کشی کرنے والوں میں مرددوں کی تعداد خواتین کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ اس حوالے سے شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خود کشی کرنے کی بڑی وجہ گھریلو معاملات ہیں ، جن سے دلبرداشتہ ہو کر مرد اپنی زندگی سے آزاد ہونے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ رپورٹ میں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ خودکشی کرنے والوں میں سے زیادہ تر کی عمر18سال سے30سال کے درمیان ہے، یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب شادی کے بعد مرد کے کندھوں پر گھریلو معاملات کی زمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں جن کے بوجھ تلے آ کر مرد حضرات اپنی زندگی کے خاتمے کو ترجیح دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…